1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وینزویلا: سپریم کورٹ پر حملہ دہشت گردانہ کارروائی ہے، صدر مادورو

وینزویلا کے ایک پولیس ہیلی کاپٹر نے دارالحکومت کاراکس میں واقع سپریم کورٹ اور وزارت داخلہ کی عمارتوں پر حملے کیے ہیں۔ ملکی صدر نکولاس مادورو نے اس کارروائی کو ’ایک دہشت گرد عمل‘ قرار دے دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے  ستائیس جون بروز بدھ وینزویلا کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ منگل کے دن پولیس کے ایک ہیلی کاپٹر نے سپریم کورٹ اور وزارت داخلہ کی عمارتوں پر حملہ کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ نچلی پرواز کرتے ہوئے اس ہیلی کاپٹر نے وزارت کی عمارت پر پندرہ فائر کیے جبکہ سپریم کورٹ کی عمارت پر چار گرینیڈ پھینکے۔ جب یہ کارروائی کی گئی تو دونوں حکومتی عمارتوں میں سرکاری افسران بھی موجود تھے۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

وینزویلا کا سیاسی انتشار اور ناوابستہ تحریک کی سمٹ

’ اقتصادی جنگ کی آج جیت ہو گئی ہے‘: مادورو

وینزویلا: بجلی کا بحران، خواتین ہیئر ڈرائیر کم استعمال کریں

ایسی اطلاعات ہیں کہ اس چرائے گئے ہیلی کاپٹر میں ایک پولیس افسر ہی موجود تھا، جس نے یہ کارروائی سر انجام دی ہے۔ اس حملے کے بعد یہ پولیس اہلکار فرار ہو گیا، جس کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ ملکی اپوزیشن سپریم کورٹ پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ صدر مادورو کی حمایت کرتی ہے۔ اسی طرح وزارت داخلہ بھی صدر مادورو کے تابع ہے۔

ملکی صدر نکولاس مادورو نے اس حملے کو ایک دہشت گردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل یہ ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے سلسلے میں کی جانے والی ایک کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جلد یا بدیر ہم ان حملہ آوروں کو پکڑ لیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مسلح حملہ آوروں نے حکومتی اداروں پر دہشت گردانہ حملہ کیا ہے۔

Venezuela Nicolas Maduro (Reuters/Handout: Miraflores Palace)

چون سالہ سوشلسٹ سیاستدان مادورو کو کئی ماہ سے اپوزیشن کے مظاہروں کا سامنا ہے

چون سالہ سوشلسٹ سیاستدان مادورو کو کئی ماہ سے اپوزیشن کے مظاہروں کا سامنا ہے۔ ملکی اپوزیشن مادورو کو ایک ’آمر‘ قرار دیتی ہے جبکہ حالیہ عرصے کے دوران ملکی معیشت میں ابتری کے باعث مادورو کی اپنی حکومت کے ہی کئی افراد اور سکیورٹی ایجنسیاں ان کی پالیسیوں سے نالاں نظر آتے ہیں۔ اپریل سے اب تک حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں 75 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

مادورو کا البتہ کہنا کہ دراصل امریکا ان کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے تاکہ وہ وینزویلا میں ’ایک کٹھ پتلی‘ حکومت لا کر اس ملک میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لے۔ تاہم اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مادورو کی حکومت مالیاتی بحران کے شکار ملک میں عام انتخابات کا انعقاد کرائے تاکہ ملکی عوام خود فیصلہ کریں کہ وہ ملک کا نیا رہنما کس کو چننا چاہتے ہیں۔

DW.COM