1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

وینزویلا: بجلی کا بحران، خواتین ہیئر ڈرائیر کم استعمال کریں

وینزویلا میں بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے صدر نکولس مادورو نے غیر معمولی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ توانائی کے بحران اور خشک سالی کی وجہ سے ملکی عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

انتیس ملین کی آبادی والے اس لاطینی امریکی ملک کے شہری تقریباً روزانہ ہی پانی اور بجلی کو ترستے ہیں کیونکہ ملک میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے اس ملک کے صدر نکولس مادورو نے کہا،’’ تعلیمی ادارے اور کاروبار پیر 18اپریل کو بند رہیں گے جبکہ منگل کو وینزویلا میں عام تعطیل بھی ہے۔ اسی طرح جون تک ہر جمعے کو بھی چھٹی ہوا کرے گی خاص طور پر سرکاری ادارے بند رہا کریں گے۔‘‘ متعدد صنعتی اداروں کو پیداوار میں کمی کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔ صدر مادورو نے خواتین سے درخواست کی ہے کہ وہ ہیئر ڈرائیر کو صرف خاص مواقع پر ہی استعمال کریں۔

صدر کے مطابق،’’انقلابی اقدامات کرنےکا وقت آ گیا ہے۔‘‘ مادورو نے ملک کے بڑے 15 شاپنگ مالز کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ مادورو کے بقول ان شاپنگ مالز کے مالکان کو پانچ سال قبل کہا گیا تھا کہ وہ جنریٹرز کا انتظام کرتے ہوئے بجلی کی اپنی ضروریات خود پوری کریں۔ ’’اس حکم کی خلاف ورزی کرنے پر ان کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘‘۔

اسی طرح سورج کے روشنی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے یکم مئی سے وقت میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ تاہم اس بارے میں اگلے دنوں میں تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔ وینزویلا میں توانائی کے شعبے میں اس ہنگامی صورتحال کا تعلق ملک کے سب سے بڑے ڈیم ایل گوری میں پانی کی قلت سے ہے۔ ملکی توانائی کی ساٹھ فیصد ضروریات اسی ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی سے پوری ہوتی ہیں۔

تیل کی دو لت سے مالا مال یہ ملک گزشتہ کئی برسوں سے شدید خشک سالی کا شکار ہے۔ کئی ماہرین اس بحران کے سلسلے میں کاراکس حکومت کو بھی قصور وار قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا موقف ہے کہ حکومت کو توانائی کی اس قلت کا اندازہ ہو گیا تھا تاہم اس کے باوجود حکام کی جانب سے کوئی پیشگی اقدامات نہیں کیے گئے۔ اس بیان کے مطابق آبادی اور کھپت میں اضافے کے باوجود نہ تو ڈیم تیار کیے گئے اور نہ ہی توانائی کے اضافی مراکز تعمیر کرنے کے بارے میں سوچا گیا۔