1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ویسٹ بینک کی زرخیز اراضی پر اسرائیل کا قبضہ کرنے کا فیصلہ

اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اردن کے قریب ویسٹ بینک کی ایک بڑی پٹی پر قبضے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اِس اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ہے۔

default

مغربی کنارے میں قائم یہودی بستی

نیوز ایجنسی روئٹرز کو اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ایک یونٹ کو گاٹ (COGAT) نے اپنے ایک میل میل میں واضح کیا کہ اردنی سرزمین کے قریب واقع ویسٹ بینک کی وسیع پٹی پر اسرائیلی قبضے کو حتمی شکل دی جانے والی ہے۔ سیاسی حکومت کے فیصلے کے بعد ویسٹ بینک کی اِس پٹی کو اسرائیل کی جغرافیائی حدود میں ضم کر دیا جائے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اِس اسرائیلی فیصلے پر عالمی برادری خااموش نہیں رہے گی۔ کئی عرب تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عالمی برادری کی تنقید سے اسرائیلی حکومت اپنا فیصلہ بدلنے پر تیار نہیں ہو گی۔

اسرائیلی حکومت کے اِس اقدام کو سب سے پہلے اسرائیل کے آرمی ریڈیو نے رپورٹ کیا تھا۔ اِس رپورٹ کے مطابق 154 ہیکٹرز یا 380 ایکڑ اراضی کو اسرائیلی سرزمین کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اب صرف اعلان ہونا باقی ہے۔ یہ اراضی جریکو کے فلسطینی علاقے کے قریب وادی اردن کا حصہ ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ اِس علاقے میں اسرائیل پہلے ہی کئی آباد کاری کے منصوبوں کو تعمیر کرتے ہوئے فلسطینی علاقے کو اپنی جغرافیائی حدود میں ضم کر چکا ہے۔ قبضہ کیے گئے علاقوں میں زرعی فارم قائم کیے گئے ہیں۔

Checkpoint nahe der israelischen Siedlung Itamar im Westjordanland

ویسٹ بینک میں قائم یہودی بستی کی جانب جانے والی سڑک پر کھڑے اسرائیلی فوجی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنے بیان میں کہا کہ آبادکاری کی یہ سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں اور اسرائیلی حکومت کا یہ عمل دو ریاستی تصور کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ تنازعے کو مزید گہرا کرے گا۔ اِس ممکنہ یہودی کارروائی کی فلسطینی حکام نے مذمت کرنا شروع کر دی ہے۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی سینیئر رکن حنان اشراوی نے اِس یہودی اقدام کو انٹرنیشنل قانون کی کھلی خلاف ورزی سے تعبیر کیا ہے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اشراوی کا کہنا تھا کہ اسرائیل، فلسطینیوں کی اراضی یا زمین کو حیلے بہانوں سے ہڑپ کرتا جا رہا ہے۔

جس علاقے کو اسرائیل قبضہ کر کے اپنی سرحدی حدود میں شامل کرنا چاہتا ہے، وہاں کئی یہودی آباد کاروں نے پہلے ہی زرعی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مجموعی طور پر یہ تمام علاقہ اسرائیل کی شہری انتظامیہ اور فوج کے کنٹرول میں ہے۔ اب صرف اِس زمین کا اسرائیلی ریاست کا حصہ بنانا باقی رہ گیا ہے۔ یہ علاقہ بحیرہ مردار کے ایک کونے کے انتہائی قریب ہے۔ کئی سالوں سے اِس علاقے میں کوئی ایک فلسطینی بھی نہیں رہتا۔ دوسری جانب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکراتی عمل اپریل سن 2014 سے معطل ہے اور حالیہ ہفتوں کے درمیان پرتشدد واقعات نے فریقین کے درمیان مزید دوری پیدا کر دی ہے۔