1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ون ڈے میں بھی پاکستان فاتح

پاکستانی اوپنر احمد شہزاد کی عمدہ سنچری کی بدولت پاکستان نے سینٹ لوئیس میں کھیلا جانے والا دوسرا ون ڈے میچ بھی بڑی آسانی کے ساتھ سات وکٹوں سے جیت لیا۔ اِس طرح اُسے پانچ میچوں کی سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل ہو گئی ہے۔

مصباح 43 بنا کر ناٹ آؤٹ رہے

مصباح 43 بنا کر ناٹ آؤٹ رہے

جس لمحے پاکستانی بلے باز عمر اکمل نے چوکا لگایا اور میچ کا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہوا، تب ابھی مقررہ پچاس اوورز کی بارہ گیندیں باقی تھیں۔ عمر اکمل 17 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ اُن کے ساتھ مصباح الحق تھے، جنہوں نے 43 رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔

پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بالنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم مقررہ پچاس اوورز میں 220 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ اگرچہ ویسٹ انڈیز کے آٹھ کھلاڑیوں کا اسکور ڈبل فگرز تک پہنچا تاہم صرف کپتان لینڈل سائمنز ہی واحد ویسٹ انڈین بیٹسمین تھے، جنہوں نے کم از کم ہاف سنچری اسکور کی۔ اُنہوں نے 48 گیندوں پر 51 رنز بنائے۔ اِس طرح ایک بار پھر ویسٹ انڈیز کی ٹیم زیادہ اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔

پاکستانی بالرز میں سے سعید اجمل سب سے زیادہ کامیاب رہے، جنہوں نے اپنے دَس اوورز میں محض 23 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ محمد حفیظ، وہاب ریاض اور شاہد آفریدی نے بھی دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ایک وکٹ حماد اعظم نے حاصل کی۔

کرس گیل کو انڈین پریمیئر لیگ میں کھیلنے کے لیے جانے کی اجازت دے دی گئی تھی، جس کے باعث ویسٹ انڈین ٹیم کو پاکستان کے خلاف میچوں میں یقیناً نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے

کرس گیل کو انڈین پریمیئر لیگ میں کھیلنے کے لیے جانے کی اجازت دے دی گئی تھی، جس کے باعث ویسٹ انڈین ٹیم کو پاکستان کے خلاف میچوں میں یقیناً نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے

پاکستان نے اپنی اننگز کا آغاز اعتماد کے ساتھ کیا اور ویسٹ انڈیز بالرز کی عمدہ کارکردگی کے جواب میں صبر اور احتیاط کا مظاہرہ کیا لیکن ساتھ ساتھ مجموعی اسکور میں اضافے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اوپنر محمد حفیظ 32 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ اُن کی جگہ کھیلنے کے لئے آنے والے اسد شفیق 23 رنز بنا کر رَن آؤٹ ہوئے۔

اُنیس سالہ اوپنر احمد شہزاد نے مصباح الحق کے ساتھ مل کر پاکستانی ٹیم کو فتح کے قریب پہنچا دیا تاہم سنچری اسکور کرنے کے تھوڑی ہی دیر بعد وہ لیگ اسپنر بشو کی ایک گیند پر اسٹمپ آؤٹ ہو گئے۔ احمد شہزاد نے، جنہیں بعد ازاں مَین آف دی میچ کا اعزاز دیا گیا، مجموعی طور پر 148 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے سات چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 102 رنز بنائے۔ یہ اُن کے کیریئر کی دوسری وَن ڈے سنچری تھی۔ اِس سے پہلے اُنہوں نے فروری میں ہیملٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف 115 رنز بنائے تھے۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے کامیاب بالر بشو رہے، جنہوں نے 36 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔ ویسٹ انڈیز کو یقینی طور پر اِس بات کا نقصان ہوا کہ دوتجربہ کار کھلاڑیوں رام نریش سروان اور شو نارائن چندر پال کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ اِسی طرح یہ بات بھی ویسٹ انڈیز کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی کہ اُس نے کرس گیل اور کیرن پولارڈ کو انڈین پریمیئر لیگ میں کھیلنے کے لیے جانے کی اجازت دے دی۔

امکان غالب ہے کہ اب بقیہ تین وَن ڈے میچوں کے لیے ویسٹ انڈین ٹیم اپنے کھلاڑیوں میں کوئی نہ کوئی رد و بدل ضرور کرے گی۔ اگلے دو وَن ڈے میچ جمعرات اور پیر کو باربادوس کے کینسنگٹن اوول میں کھیلے جائیں گے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس