1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم جلد پاکستان آ رہی ہے

ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کے گیارہ برس بعد دورہء پاکستان کے اعلان سے پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے ایک اور خوشگوار پیش رفت ہوئی ہے۔ ویسٹ انڈین ٹیم امسال نومبر کے آخر میں تین ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچز کھیلنے لاہور آئے گی۔

Wellington Cricket Weltmeisterschaft Neuseeland vs West Indies (Reuters/A. Phelps)

ویسٹ انڈین ٹیم رواں برس نومبر کے آخر میں تین ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچز کھیلنے لاہور آئے گی

ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کے گیارہ برس بعد دورہء پاکستان کے اعلان سے پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے ایک اور خوشگوار پیش رفت ہوئی ہے۔ ویسٹ انڈین ٹیم رواں برس نومبر کے آخر میں تین ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچز کھیلنے لاہور آئے گی۔

اس بات کا اعلان پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے کرکٹ بورڈز نے پیر کو جاری ہونیوالے اپنے مشترکہ اعلامیے میں کیا۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے قذافی اسٹیڈیم میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ویسٹ انڈین ٹیم نے پاکستان آنے کی حامی بھرلی ہے اور وہ نومبر کے تیسرے ہفتے پاکستان آئے گی۔ نجم سیٹھی نے اگلے ماہ آئی سی سی ورلڈ الیون کے دورہء پاکستان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا،’’اس سلسلے میں آئی سی سی کی سیکورٹی ٹیم رواں ماہ کے آخر میں لاہور آرہی ہے جسکی رپورٹ بہت اہمیت کی حامل ہے‘‘۔

 چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ ورلڈ الیون جس میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے سرکردہ تمام ممالک کے کھلاڑی شامل ہونگے، آئندہ ماہ لاہور میں چار روز میں تین ٹونٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے گی جس کے بارے میں حکومت پنجاب نے پی سی بی کو گرین سگنل دے دیا ہے۔

سیٹھی نے مزید کہا، ’’سری لنکا نے بھی اکتوبر میں ایک میچ پاکستان میں کھیلنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اگر ورلڈ الیون کا دورہء پاکستان کامیاب رہا تو ہماری کوشش ہوگی کہ سری لنکا لاہور میں ایک سے زائد میچ کھیل کر جائے۔‘‘

صرف لاہور میں ہی میچز کرانے کے سوال پر نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر شہروں میں سلامتی کے حوالے سے ٹیموں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول اگلے برس پاکستان سپر لیگ کے میچز کراچی میں بھی کرائے جائیں گے، جس کے بعد شہر قائد میں بھی بین الاقوامی کرکٹ بحال ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ سری لنکا اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ستمبر اکتوبر میں دو ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ میچز اورتین ٹونٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کھیلی جائے گی۔

دوسری جانب ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیزکرکٹ ٹیم کا پاکستان کا دورہ ستمبر میں ورلڈ الیون کے لاہور میں میچز کی کامیابی سے مشروط ہے۔

BRIAN LARA 1994 (Picture-Alliance/Photoshot)

آخری بار ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم  2006ء میں پاکستان آئی تھی۔ اُس زمانے برائین لارا ویسٹ انڈیزٹیم کے کپتان تھے

آخری بار ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم  2006ء میں پاکستان آئی تھی۔ اُس زمانے برائین لارا ویسٹ انڈیز اور انضمام الحق پاکستان کے کپتان تھے۔ ویسٹ انڈیز ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بھی ہے۔

دریں اثنا ڈوئچے ویلے کو باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ کے بعد فاسٹ باؤلر ڈیل اسٹین اور مورنی مورکل نے بھی پاکستان آنے کی حامی بھر لی ہے۔

 ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کا انتخاب انگلینڈ کےسابق کوچ اینڈی فلاور کر رہے ہیں اب تک جن کھلاڑیوں نے پاکستان آنے میں رضا مندی ظاہر کی ہے ان میں بنگلہ دیش کے تمیم اقبال، انگلینڈ کے عادل رشید اور آسٹریلیا کے وکٹ کیپر ٹم پین شامل ہیں۔

ہاشم آملہ اور ڈیل اسٹین اس وقت آئی سی سی ورلڈ رینکنگ میں دس چوٹی کے کھلاڑیوں میں شامل ہیں اور تمیم اقبال بنگلہ دیش کے نمبر ایک بیٹسمین ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic