1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ویسٹ انڈیز میں پہلی سیریز جیتنے کی مراد برآئے گی؟

جمیکا کے سبائنا پارک پر پاکستان ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ شروع ہو گا۔ پاکستانی کرکٹرز اس دورے میں اب تک ٹونٹی ٹونٹی اور ایک روزہ میچوں میں اپنی دھاک بٹھا چکے ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ محدود اوورز سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔

طاقت ہی کمزوری بن چکی                     

 ٹیسٹ کرکٹ میں باولرز پاکستانی کی کامیابیوں کے نقیب رہے ہیں لیکن اب باولنگ ہی اس ٹیم کی سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے۔ ٹیم میں محمد عامر، وہاب ریاض اور یاسر شاہ جیسے باولرز تو ہیں لیکن جاری سیزن کے جن چھ ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کو لگاتار ناکامی کا منہ دیکھنا کرنا پڑا ان میں ایک بار بھی یہ پاکستانی باولنگ اٹیک مخالف ٹیم کو دو بار آوٹ نہیں کرسکا۔ رواں ہفتے جمیکا میں کھیلے گئے سہ روزہ میچ میں بھی ویسٹ انڈیز پریزیڈنٹ الیون کے غیر معروف بلے بازوں کےلئے پاکستانی باولرز ترنوالہ ثابت ہوئے اور میزبان ٹیم نے پہلی اننگز میں 419اور دوسری میں دو وکٹ پر152رنز بنا کر خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ سلیکٹرز نے نئے فاسٹ باولر محمد عباس کو دورے پر بھیجا ہے لیکن وہ کوچ مکی آرتھر کی گڈبک میں نہیں جبکہ ایک اور نئے پیسر حسن علی زخمی ہو چکے ہیں۔ سبائنا پارک کی پچ جو کبھی تیز اور خطرناک شمار ہوتی تھی حالیہ برسوں میں سست پڑ چکی ہے اس لیے پاکستانی کپتان مصباح الحق کا پہلے ٹیسٹ میں دو اسپنرز کے ساتھ اترنے کا ارادہ ہے۔ یوں ساحلی سبائنا پر اگر ہیڈلی اینڈ سے یاسر شاہ اور نیلے کوہساروں والے اینڈ سے شاداب خان نے ملکر لیگ اسپن اٹیک کیا تو کسی کو حیرت نہیں ہوگی۔

Pakistan Misbah-ul-Haq Cricket Spieler (Imago/BPI)

یونس خان کی طرح مصباح الحق بھی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہو رہے ہیں

اوپننگ کا مسئلہ                     

مصباح کی کپتانی میں پاکستان کی بیٹنگ لائن میں صرف اوپننگ ہی وہ شعبہ ہے جس میں رد و بدل ہوتا رہا۔ اظہرعلی نے شمالی کرہٴ ارض سے جنوبی کرہٴ ارض تک اوپننگ کے فرائض احسن طریقے سے انجام دیے ہیں لیکن سائیڈ میچ میں احمد شہزاد کے ساتھ شان مسعود سے اوپننگ کرانے کا تجربہ کیا گیا جو ناکام رہا۔ اس لیے سمیع اسلم اور شرجیل کے منظر سے ہٹنے کے بعد جمیکا میں احمد شہزاد یقینی طور پر اظہر کے نئے اوپننگ پارٹنر ہونگے اور کپتان کے عدم اعتماد کے باوجود بابر اعظم کو ون ڈاون پوزیشن مل سکتی ہے۔ یہ ٹیسٹ سیریز پاکستان کے لیے اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ عظیم بیٹسمین یونس خان اور کپتان مصباح الحق یہاں آخری بار ایکشن دکھائی دیں گے۔  جمیکا میں دس ہزار کا اہم سنگ میل بھی یونس خان کا منتظر ہے۔ 23 کا ہندسہ خان کو دس ہزار رنز بنانے والا پہلا پاکستانی بنا دے گا۔ مصباح کو اپنے 5000رنز کےلیے 49 کی مزید ضروت ہے۔

VAE Cricketspieler Younis Khan in Abu Dhabi (N. Naamani/AFP/Getty Images)

یونس خان کو دس ہزار رنز مکمل کرنے میں صرف 23 رنز کی ضرورت ہے

      

سبائنا پارک اور پاکستان کا بھی گولڈن جوبلی ٹیسٹ        

کنگسٹن شہر کی ساحل پر واقع سبائنا پارک پر یہ کھیلا جانیوالا 50واں ٹیسٹ ہے۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین بھی تاریخ کا یہ 50واں ہی ٹیسٹ ہوگا۔  ماضی میں باہمی مقابلوں میں پاکستان نے 18اور ویسٹ انڈیز نے 16میں کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ میزبان ٹیم نے پاکستان کے خلاف جو ہوم 11ٹیسٹ جیتے ہیں ان میں 1957 کا مشہور جمیکا ٹیسٹ بھی شامل ہے جو گیری سوبرز کے 365کے عالمی ریکارڈ کی وجہ سے شہرہ آفاق بنا۔ اس میچ میں کپتان کاردار جو ٹوٹی ہوئی انگلی کے ساتھ کھیلے تھے، پہلے ہی اوور میں اپنے سٹرائک باولر محمود حسین سے محروم ہو گئے کچھ دیر بعد نسیم الغنی کا بھی انگوٹھا زخمی ہوگیا اور یوں باولنگ کا سارا بوجھ فضل اور خان محمد پر آگیا۔ مرحوم فضل نے غیرمعمولی اسٹیمنا اور فٹنس کا مظاہرہ ہوئے یہاں 86 اوورز پھینکے تھے، جو کسی فاسٹ باولر کا ٹیسٹ کرکٹ میں آج بھی سب سے لمبا اسپیل  ہے۔ 1957 کی طرح 1977 میں بھی جمیکا ٹیسٹ پاکستان ہار گیا تھا لیکن 2005 میں سبائنا پارک پر یونس خان کی سینچری اور دانش کنیریا کی 5وکٹیں اکلوتی فتح کا موجب بنیں۔ جمیکا ٹیسٹ میں انگلینڈ کے دو رچرڈز الینگورتھ اور کیٹل برا امپائرنگ کے فرائض انجام دیں گے جبکہ انہی کے ہم وطن کرس براڈ میچ ریفری ہیں۔

Sri Lanka Cricket Yasir Shah (I. S. Kodikara/AFP/Getty Images)

یاسز شاہ

حسرت ناک یادیں                   

پاکستان نے کبھی ویسٹ انڈیز کو ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز نہیں ہرائی۔ 1988اور 2000میں بد قسمتی اور خراب امپائرنگ سے یہ سنہری موقع ضائع ہوگیا تھا۔ 2011 میں یونس خان کا ہنگامی طور پر دورہ ادھورا چھوڑنے سے سیریز 1-1پر برابر رہی لیکن اب مصباح اور انکے جوانوں کے پاس  ایک ایسی ویسٹ انڈین ٹیم کے خلاف تاریخ رقم کرنے کا موقع ہے جس میں ڈیرن براوو بھی باقی نہیں بچے اورٹیسٹ کرکٹ میں صرف بنگلہ دیش اور زمبابوے سے ہی اسکی عالمی رینکنگ  بہتر ہے۔ البتہ ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ نے جن تین مقامات پر پاکستان کو ٹیسٹ کھلانے کا منصوبہ بنایا ہے وہاں ایشیائی بیٹسمین کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ آسان نہیں ہو گا۔