1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ویسٹر ویلے کی مجبوری، پارٹی قیادت چھوڑنے کا فیصلہ

جرمنی میں وفاقی مخلوط حکومت میں شامل ترقی پسندوں کی جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ گیڈو ویسٹر ویلے نے اپنی پارٹی کے اندر سے خود پر کئی مہینوں سے کی جانے والی تنقید کے بعد اپنے اس عہدے سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

default

جرمن وزیر خارجہ ویسٹر ویلے

انچاس سالہ ویسٹر ویلے نے، جو اس وقت جرمنی کے وزیر خارجہ اور نائب چانسلر بھی ہیں، اتوار کو برلن میں اعلان کیا کہ وہ مئی میں اپنی پارٹی کے وفاقی کنوینشن میں دوبارہ اس عہدے کے لیے امیدوار نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ فری ڈیموکریٹک پارٹی ایف ڈی پی میں ایک نئے آغاز کے لیے ان کا یہ فیصلہ درست ہے اور اب ذاتی طور پر ان کی توجہ کا مرکز وفاقی جرمن وزیر خارجہ کے طور پر ان کی ذمہ داریاں ہوں گی۔ اپنے اس اعلان میں ویسٹر ویلے نے دائیں بازو کی قدامت پسند یونین جماعتوں اور ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی پر مشتمل موجودہ جرمن حکومت میں وائس چانسلر کے طور پر اپنی حیثیت سے متعلق کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ گیڈو ویسٹر ویلے کے جانشین کے طور پر ایف ڈی پی کا سربراہ کون بنے گا۔ اس عہدے کے لیے ممکنہ امیدواروں کے طور پر وفاقی وزیر صحت فلپ روئزلر اور FDP کے موجودہ سیکریٹری جنرل کرسٹیان لِنڈنر کے نام بھی لیے جا رہے ہیں۔

Christian Lindner Generalsekretär FDP Anne Will

پارٹی کے موجودہ سیکریٹری جنرل کرسٹیان لِنڈنر

فری ڈیموکریٹک پارٹی کو وفاقی صوبوں باڈن ورٹیمبرگ اور رائن لینڈ پلاٹنیٹ میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں واضح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان انتخابی ناکامیوں کے بعد پارٹی سربراہ کے طور پر ویسٹر ویلے پر داخلی دباؤ بڑھ گیا تھا کیونکہ ان سے مطالبات کیے جا رہے تھے کہ وہ ترقی پسندوں کی ان انتخابی شکستوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پارٹی کی قیادت سے دستبردار ہو جائیں۔ اسی دوران وفاقی اور صوبائی سطح کے کئی سرکردہ لبرل سیاستدانوں نے ابھی اپنی جماعت کے اس رہنما سے کھلم کھلا دوری اختیار کر لی تھی۔

سیاسی ماہرین کے بقول اتوار کے روز برلن میں گیڈو ویسٹر ویلے نے جو اعلان کیا، اس کے لیے الفاظ کا چناؤ بھی یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ یہ فیصلہ رضاکارانہ طور پر اور اپنی خوشی سے نہیں بلکہ اپنے پارٹی ساتھیوں کی شدید تنقید کے نتیجے میں مجبوری میں کر رہے ہیں۔

ویسٹر ویلے نے کہا، ’میں دس سال تک پارٹی کا سربراہ رہنے کے بعد اس سال مئی میں پارٹی کے اگلے وفاقی کنوینشن میں دوبارہ اس عہدے پر انتخاب کا امیدوار نہیں ہوں گا‘۔ جرمن وزیر خارجہ کی طرف سے ایف ڈی پی کی مرکزی قیادت میں آئندہ چند ہفتوں میں تبدیلی سے متعلق ویسٹر ویلے کے اعلان کے بعد چانسلر انگیلا میرکل نے، جو ہینوور صنعتی میلے کے افتتاح کے لیے ہینوور میں تھیں، کہا کہ موجودہ مخلوط حکومت کے بڑے بڑے سیاسی منصوبے ہیں اور ایف ڈی پی کی قیادت میں تبدیلی کا کرسچین، لبرل اتحاد اور موجودہ حکومت کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM