1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ویزا، ماسٹر کارڈ اور پے پال امریکی وزارت خارجہ کے کارندے ہیں، جولیان اسانج

وکی لیکس کے بانی جولیان اسناج نے ویزا اور ماسٹر کارڈ کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر رقوم کی ترسیل کے ادارے پےپال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان تینوں کمپنیوں نے وکی لیکس کے عطیات کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی ہے۔

default

جولیان اسانج نے لندن سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ویزا، ماسٹر کارڈ اور پے پال کی جانب سے وکی لیکس کو عطیات کی ترسیل کی بندش نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ادارے امریکی وزارت خارجہ کے آلہ کار ہیں۔ یہ بات ان کو پہلے معلوم نہیں تھی۔ ساتھ ہی اسانج نےکہا کہ وکی لیکس کے خلاف استعمال کئے جانے والے تمام ہتھکنڈے ان کے عزائم اور ارادوں کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتے۔ مزید یہ کہ وہ اسی طرح خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات کو منظر عام پر لاتے رہیں گے۔ اس موقع پر پے پال کا کہنا تھا کہ وکی لیکس کے عطیات بند کرنا ان کا اپنا فیصلہ تھا اور اس میں امریکی انتظامیہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

Julian Assange Wikileaks Gründer

وکی لیکس کے خلاف تمام ہتھکنڈے ان کے عزائم اور ارادوں کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتے، جولیان اسانج

جولیان اسانج کی والدہ کرسٹین اسانج اس وقت لندن میں موجود ہیں، جہاں ان کا بیٹا سات دسمبر سے زیر حراست ہے۔ کرسٹین اسانج کی اپنے بیٹے سے ابھی تک ملاقات تو نہیں ہو سکی ہے لیکن ان دونوں کے درمیان دس منٹ تک ٹیلیفوں پر بات چیت ہوئی۔ اس دوران جولیان نے اپنی والدہ کو بتایا کہ انہیں ایک خاص قسم کی جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں وہ بالکل تنہا ہیں اور انہیں کسی دوسرے قیدی سے رابطہ کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ ان کے وکلاء کی جانب سے ضمانت پر رہائی کی پہلی درخواست اِس بناء پر مسترد کی جا چکی ہے کہ جولیان اسانج کے فرار ہو جانے کا خدشہ ہے۔

39 سالہ جولیان کے بقول یہ صورتحال اُن کو ان کے راستے سے ہٹا نہں سکتی اور اس دوران ان پر یہ مزید واضح ہو گیا ہے کہ جوکچھ بھی انہوں نے کیا، وہ درست اور سچائی پر مبنی ہے۔

سویڈن کے وکلائے استغاثہ جولیان اسانج سے اُن الزامات کے حوالے سے سوال جواب کرنا چاہتے ہیں، جو اُن پر جنسی زیادتی کے حوالے سے لگائے گئے ہیں۔

USA Wikileaks Julian Assange Presse Zeitung Titelseite

حالا ت نے مجھ پر یہ مزید واضح کر دیا ہے کہ میں نے جوکچھ کیا، وہ درست اور سچائی پر مبنی ہے، اسانج

یہ الزامات ان پر سویڈن کی دو خواتین نے عائد کئے ہیں۔ بہرحال جولیان ان کی تردید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے خلاف ایک سیاسی چال ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ خفیہ دستاویزات کو منظر عام پر لانے کے ارادے ترک کر دیں۔ سویڈش حکام نے جولیان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

اسانج نے اپنے بیان میں دنیا بھر کے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے کام، وکی لیکس اور اس میں کام کرنے والوں کو اس غیر قانونی طریقے سے دبانے کے خلاف آواز اٹھائیں۔ جولیان اسانج کے برطانوی وکیل مارک اسٹیفنز نے الجزیرہ ٹیلی وژن کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا امریکی انتظامیہ نے ایک بڑی خفیہ جیوری بنائی ہے۔ ورجینیا میں بنائی جانے والی اس جیوری کا کام اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ جولیان کے خلاف کون کون سے مقدمے قائم کئے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : امجد علی

DW.COM

ویب لنکس