1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ویزا لاٹری جیت کر بھی امریکا نہیں پہنچ سکتے‘

یمنی حکومت نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان درجنوں یمنی شہریوں کو اپنے ہاں قبول کرے، جو ویزا لاٹری جیتنے میں تو کامیاب ہو گئے، مگر صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد سفری پابندیوں کی زد میں آکر پھنس کر رہ گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کر رکھی ہے اور یمن انہی ممالک میں سے ایک ہے۔

ماتحت امریکی عدالتوں کی جانب سے اس صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا، تاہم امریکی سپریم کورٹ نے اسے جزوی طور پر قبول کر لیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ صدارتی حکم نامے کا اطلاق ان افراد پر نہ کیا جائے، جن کا کوئی قریبی رشتہ دار امریکا میں مقیم ہو، یا امریکی شہریت کا حامل ہو۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد پابندی کے شکار ہونے والے ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جن کے بارے میں خبریں مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔

مگر اس انتظامی فیصلے سے متاثر ہونے والا ایک گروپ ایسا بھی ہے، جس کی بابت خبریں سامنے نہیں آ رہیں، مگر چھ ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کا یہ گروپ ایک اذیت ناک صورت حال سے گزر رہا ہے۔

Jemen Cholera-Ausbruch (Reuters/K. Abdullah)

خانہ جنگی کا شکار ملک یمن امریکی سفری پابندیوں کی زد میں ہے

یہ وہ افراد ہیں، جو گزشتہ برس امریکی حکومت کی ویزا لاٹری جیتنے میں کامیاب رہے اور جنہیں گرین کارڈ کے لیے درخواست دینا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ کے اس نوے روزہ پابندی کے حکم نامے کی وجہ سے ان افراد کا امریکا پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نوے روزہ پابندی ان افراد کو امریکا میں قیام کے لیے درکار گرین کارڈ کے حصول کی آخری تاریخ سے صرف تین روز قبل ختم ہو رہی ہے، جب کہ اس قلیل وقت میں یہ ممکن نہیں ہو گا کہ امریکی محکمہ خارجہ ان تمام افراد کو امریکی ویزا جاری کر سکے۔

امریکی حکومت کی جانب سے لاٹری جیتنے والے افراد کو موصول ہونے والی ایک تازہ ترین ای میل میں کہا گیا ہے، ’’سفری پابندیوں کی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ آپ کو ویزا جاری نہ کیا جا سکے۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ ہر برس دنیا بھر سے 14 ملین افراد ’امیرکن ڈریم‘ کے خیال سے ویزا لاٹری کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ اسے دیگر اقوام کے لیے ’کھلی امریکی بانہوں‘ کی ایک علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ سن 2015ء میں اس اسکیم کے تحت قریب پچاس ہزار افراد گرین کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔