1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

ویزا فری انٹری یا مہاجرین ڈیل ختم، ترکی کا الٹی میٹم

ترکی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر یورپی یونین نے مہاجرین سے متعلق ڈیل کے تحت ترک باشندوں کو شینگن ممالک کے لیے ویزا کی پابندی ختم نہ کی ، تو ترکی یہ ڈیل ختم کر دے گا۔

ترک وزیرخارجہ مولوت چاؤس آؤلو نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یورپی یونین نے مہاجرین کے بہاؤ کو روکنے کے لیے جو معاہدہ کیا تھا، اس کی مکمل پاس داری کرے، ورنہ ترکی پر بھی اس پر عمل درآمد لازم نہ رہے گا۔

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان رواں برس مارچ میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ترک ساحلوں سے بحیرہء ایجیئن کے راستے یونان پہنچنے والے مہاجرین کو روکنے کے عوض ترکی سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اس کے باشندوں کے لیے شینگن ممالک کے سفر کے لیے ویزے کی پابندی ختم کر دی جائے گی۔ اس ڈیل میں کہا گیا تھا کہ ترکی یونان جانے والے غیرقانونی تارکین وطن کو روکے، جب کہ یونان میں موجود مہاجرین کو واپس لے، جس کے بدلے میں ترکی کو تین ارب یورو کی امداد دی جائے گی، تاکہ وہ یہ سرمایہ اپنے ہاں موجود مہاجرین کی بہبود پر خرچ کر سکے۔

Türkei Griechenland Abschiebung von Flüchtlingen

ترکی نے متنبہ کیا ہے کہ وہ یہ ڈیل ختم کر سکتا ہے

خبر رساں ادرے روئٹرز کے مطابق اس معاہدے پر ترکی کی جانب سے عمل درآمد کے باوجود اب تک یورپی رہنما ترک باشندوں کو یورپی ممالک کے سفر کے لیے ویزے کی شرائط ختم کرنے پر متفق نہیں ہو پائے ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے ترکی کو مطالبات کی ایک فہرست دی گئی ہے، جس میں انقرہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قوانین کو یورپی قوانین سے ہم آہنگ کرے۔ اس کے علاوہ ترکی میں آزادیء رائے اور آزادیء اظہار پر لگائی جانے والی قدغنیں ختم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ ترکی میں بغاوت کی حالیہ ناکام کوشش کے بعد حکومت نے تختہ الٹنے کی اس ناکام سازش کے مبینہ ملزمان کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے، جس پر یورپی یونین کی طرف سے تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

چاؤس آؤلو نے جرمن اخبار فرانکفُرٹر الگمائنے سے بات چیت میں کہا کہ اس معاہدے کے بعد انقرہ حکومت کی جانب سے ٹھوس اور سخت اقدامات اٹھائے گئے، جس کی وجہ سے بحیرہء ایجیئن کے ذریعے یورپی یونین جانے والے مہاجرین کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آئی۔ ’’مگر یہ پورا معاہدے ہمارے شہریوں کے لیے ویزے کی شرائط کے خاتمے سے نتھی ہے۔ 18 مارچ کے اس معاہدے کا یہ بھی حصہ تھا۔‘‘

پیر کے روز جرمن اخبار میں شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں آؤلو نے مزید کہا، ’’اگر ویزے کی پابندی ختم نہیں ہوتی، تو ہم بھی مجبور ہو جائے گے کہ مہاجرین کو واپس لینا بھی روک دیں اور 18 مارچ کی یہ ڈیل مکمل طور پر ختم ہو جائے۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’ایسا اکتوبر کے شروع یا وسط تک ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم ایک حتمی تاریخ کی بابت سوچ رہے ہیں۔‘‘