1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ویزا حاصل کرنا ہے تو سوشل میڈیا معلومات بھی فراہم کریں

امریکا ویزا حاصل کرنے والوں کی جانچ پڑتال کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتا ہے۔ اب حکام نے ویزا درخواست دہندگان کا مذہبی یا سیاسی رجحان جاننے کے لیے ان سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ سوشل میڈیا کوائف حاصل کرنے کا عمل پچیس مئی سے شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا فی الحال سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات صرف ان سے طلب کی جاتی ہیں، جو امریکا کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ بن سکتے ہیں۔

شہری آزادیوں کی وکالت کرنے والی تنظیمیں اور شخصیات اس حوالے سے پہلے ہی اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ان لوگوں کے لیے بھی تکلیف کا باعث بنیں گے، جو کسی بھی لحاظ سے خطرہ نہیں ہیں لیکن مختلف سیاسی یا پھر مختلف مذہبی خیالات رکھتے ہیں۔

امریکی حکومت کی طرف سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے، جب چھ مسلم ممالک سے آنے والے تمام افراد پر پابندی عائد کرنے کا نیا قانون متعارف کروایا جا چکا ہے اور اس کے خلاف عدالتی فیصلے بھی آ چکے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

چھ مارچ کی دستاویز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں داخل ہونے والوں کے لیے سخت جانچ پڑتال کا عمل متعارف کروانے کا کہا تھا اور اس میں ویزا اپلائی کرنے والوں کے آن لائن رویے کو جانچنا بھی شامل ہے۔

وزارت خارجہ کی اہلکار کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’اب ویزا درخواست دہندگان سے اضافی معلومات جمع کروانے کا کہا جا سکے گا، اس میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معلومات بھی شامل ہیں، سابقہ پاسپورٹ نمبرز کا مطالبہ کیا جا سکے گا، ماضی میں کہاں کہاں کا سفر کیا ہے، خاندان کے افراد کیا کرتے ہیں اور ان کے رابطہ نمبروں کی تفصیل حاصل کی جا سکے گی۔‘‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس نئے قانون سے ویزا اپلائی کرنے والوں کا صرف ایک حصہ ہی متاثر ہوگا۔ امریکا سالانہ بنیادوں پر دنیا بھر میں تیرہ ملین سے زائد ویزے جاری کرتا ہے۔