1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ویت نام میں بارودی سرنگوں کی صفائی، جرمن حکومت کی امداد

جرمن وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ برلن حکومت ویت نام میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور ایسے بموں کو محفوظ طریقے سے ضائع کرنے کے لیے ایک ملین ڈالر کی رقم دے گی، جو ویت نام جنگ کے دوران پھینکے گئےتاہم کسی وجہ سے پھٹے نہیں تھے۔

default

جرمن حکومت کی طرف سے یہ اعلان جمعہ کے دن سامنے آیا ہے۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جرمن وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہےکہ مرکزی ویت نام میں اسلحے کی صفائی کا کام غیر سرکاری اداروں کی مدد سے سر انجام دیا جائے گا۔ اس حوالے سے جرمنی کا بین الاقوامی ادارہ برائے یکجہتی ISG ہنوئے حکومت کے ساتھ مل کر بنیادی کردار ادا کرے گا۔

اگرچہ ویت نام جنگ کو ختم ہوئے تیس برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن پھر بھی اس جنگ کے دوران وہاں بمباری کے علاوہ جو باوردی سرنگیں بچھائی گئی تھیں، ان سے ابھی تک ویت نام کے شہریوں کو خطرات لاحق ہیں۔

B-52

امریکی جنگی طیارہ B-52 ویت نام پر بمباری کے دوران، نومبر 1965ء

ویت نام میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران جرمن حکومت 8.5 ملین یورو کی رقم خرچ کر چکی ہے۔ اس عرصے کے دوران ویت نام میں پندرہ سو ہیکٹر کا علاقہ صاف کر کے اسے نہ صرف قابل اراضی بنایا گیا بلکہ وہاں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔

جرمنی کے بین الاقوامی ادارہ برائے یکجہتی ISG نے اس دوران ایسے لوگوں کی بحالی کے لیے بھی غیر معمولی منصوبہ جات چلائے، جو جنگ کے دوران معذور ہوگئے تھے۔

ہنوئے حکومت کےاعداد وشمار کے مطابق ویت نام جنگ کے دوران امریکی افواج نے وہاں پندرہ ملین ٹن کے قریب بم گرائے تھے، جن میں سے قریب دس فیصد موقع پر نہیں پھٹے تھے۔ ویت نام پر زیادہ تر بمباری ہمسایہ ملک کمبوڈیا کی سرحد کے قریب کی گئی تھی تاکہ ویت نامی فورسز کے لیےفوجی رسد روکی جا سکے۔ اب بھی ان علاقوں میں یہ بم دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے تباہ کن ہیں۔

1975ء میں ویت نام جنگ ختم ہوئی تھی اور اس کے بعد سے ویت نام اور کمبوڈیا میں اب تک قریب ایک لاکھ افراد اسی بارودی مواد کے پھٹنے کے نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف ویت نام میں ہر سال کم ازکم ایک سو افراد بارودی سرنگوں کے پھٹنے کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس