1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ویتنام کیا روس سے دوری اختیار کر رہا ہے؟

روس روایتی طور پر ویتنام کا اہم ترین کاروباری ساتھی ہے۔ تاہم اب ویتنام میں ایک ایسے سمپوزیم کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں امریکی اسلحہ ساز ادارے شرکت کر رہے ہیں۔

ویتنام میں اس سمپوزیم کا اہتمام ایک ایسے موقع پر کیا جا رہا ہے، جب امریکی صدر باراک اوباما اسی ماہ اس ملک کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ واشنگٹن حکام اپنے سابق دشمن ملک کو ہتھیاروں کی فروخت پر عائد پابندی اٹھانے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔

اسی اختتام ہفتہ پر دارالحکومت ہنوئے میں ہونے والی اس تقریب میں اسلحہ ساز امریکی صنعت کی اہم ترین کمپنیاں موجود ہوں گی۔ اس سمپوزیم کے بارے میں معلومات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس تقریب میں بوئنگ اور لوک ہیڈ مارٹن نامی ادارے بھی موجود ہوں گے۔

سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہولم میں امن پر تحقیق کرنے والے ادارے سپری کے مطابق 2011ء سے 2015 ء کے درمیان ویتنام کی ہتھیار برآمد کرنے کی شرح 2006ء سے2010ء کے مقابلے میں 699 فیصد زیادہ تھی۔

واشنگٹن نے 2014ء میں ویتنام پر عائد پابندیوں میں کچھ نرمی کی تھی۔ تاہم پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کو انسانی حقوق کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے مشروط کر دیا گیا تھا۔ ہنوئے حکومت گزشتہ کئی برسوں سے یورپی اور امریکی اسلحہ ساز اداروں سے بات چیت میں مصروف ہے کیونکہ یہ ملک جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور سمندروں کی نگرانی کے لیے جہازوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا خواہش مند ہے۔

اس کمیونسٹ ریاست کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں اس مذاکرے کا تذکرہ نہیں کیا جا رہا ہے اور دفاعی موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی بھی اس فورم کے موقع پر موجود نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی اس سمپوزیم میں شرکت کے لیے اجازت کی درخواست دی تھی، جسے رد کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ویتنام کی وزارت دفاع سے اس بارے میں وضاحت جاننے کی تمام تر کوششیں بھی بے سود رہیں۔

ویتنام کی حکومت نے ملکی فوج میں تیزی سے اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ جنوبی بحیرہ چین میں چینی فوج کی سرگرمیوں میں اضافہ ہے۔ ان پانیوں میں موجود کچھ جزائر پر ویتنام بھی ملکیت کا دعوی کرتا ہے۔ ساتھ ہی ویتنام ہتھیار برآمد کرنے والے دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔