1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ویتنامی خواتیں: آسودگی کے خوابوں کی تکلیف دہ تعبیر

لی ایک 25 سالہ ویتنامی لڑکی ہے جس نے کچھ عرصے پہلے اپنے خاندان کی غربت سے تنگ آکر جنوبی کوریا کے ایک مرد سے شادی کرلی تھی۔ مگر شادی کےکچھ عرصے بعد لی کے بہتر زندگی کے خواب چکنا چور ہوگئے۔

default

کینیڈا میں قائم انٹاریو یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جنوب مشرقی ایشیامیں غیر ملکی خواتین سے شادی کرنے والے مردوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ڈینیل بیلانگر کی زیرسرپرستی ہونے والی اس تحقیق کے مطابق جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان میں اکثر خواتین شادی کرکے رِوایتی کردار ادا کرنے سے گریزاں ہیں۔ جس کی وجہ سے ان ممالک کے مردوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد غیر ملکی خواتین سے شادی کو ترجیح دے رہےھیں۔

تحقیق کے مطابق ان غیر ملکی عورتوں میں سب سے زیادہ تعداد ویتنامی خواتین کی ہے، جو اپنی اور اپنے خاندان کی غربت دور کرنے اور بہتر زندگی کی امید میں غیرملکی مردوں سے شادی کو ترجیح دیتی ہیں۔ جنوبی کوریا کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پچھلے سال جنوبی کوریائی مردوں اور ویتنامی خواتین کے درمیان ہونے والی شادیوں کی تعداد سات ہزار دوسو49 تھی ۔

ویتنامی لڑکی 'لی' کے والدین کی ماہانہ کمائی 2 ملین ڈونگ سے بھی کم تھی جوکہ 108امریکی ڈالرکے قریب بنتی ہے۔ لی کے شوہر نے شادی سے پہلے اس خاندان کو اس سے پانچ گنا زیادہ رقم دی تھی۔ خواتین کی بہبود کے لئے قائم ایک سرکاری مرکز میں بات کرتے ہوئے لی نے بتایا کے اس کا شوہر اس پر جسمانی تشدد تو نہیں کرتا تھا، مگر وہ سارا دن اسے گھر میں بند رکھتا تھا۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کا شوہر اس پر چیختا چِلاتا تھا اس لیے وہ گھر چھوڑ کر بھاگ گئی۔ تاہم اسے گرفتار کرلیا گیا، جس کے بعد اسے واپس ویتنام اپنے گھر بھیج دیا گیا۔ ریسرچرز کے مطابق لی ان 40 ہزار ویتنامی خواتین میں سے ایک ہے جنہوں نے 2004 سے 2009 کے درمیان جنوبی کوریا کے مردوں سے شادی کی۔

جنوبی کوریا کے ٹیلی وژن پروگرام ویتنام میں بہت مشہور ہیں جن میں جنوبی کوریا کی پرتعیش زندگی کی عکاسی کی جاتی ہے۔ انہی پروگراموں کی بدولت ویتنامی خواتین بہتر زندگی کے خواب دیکھنے لگتی ہیں۔ ان خواتیں میں سے زیادہ تر کا تعلق میکونگ ڈیلٹا صوبے کے غریب اور غیرتعلیم یافتہ گھرانوں سے ہے جہاں سے لی بھی تعلق رکھتی ہیں۔ اسی علاقے کے قریب واقع 'ہوچی من' نامی شہرمیں موجود غیر قانونی طور پر شادی کروانے والے ایجنٹ ان کے لیے ان خوابوں کی تعبیر آسان بنادیتے ہیں۔

Flash-Galerie Sandsturm in China Taiwan Taipei

اعداد و شمار کے مطابق 1990 سے اب تک قریب ایک لاکھ ویتنامی خواتین نے تائیوان میں شادی کی۔

ویتنامی محققہ 'ٹران گیانگ لِن' نے صوبہ کین تھو کے گھرانوں پر کی جانے والی ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہےکہ ویتنام سے باہر شادی کرنے والی بہت سی عورتیں اپنے گھر تقریباﹰ تین ہزار امریکی ڈالر سالانہ تک بھیج دیتی ہیں، جو کہ ویتنام کی فی کس آمدنی کا تقریباﹰ تین گنا ہے۔ مگر خواتین کے حقوق کے لیے سرگرمِ عمل کارکنان کا کہنا ہے کہ غلط وعدوں اور دھوکے بازی پر مبنی اشتہارات کی وجہ سے کچھ عورتوں کی شادی غریب، شرابی یا بیمار مردوں سے بھی ہوجاتی ہے۔ ایسے ہی ایک کوریائی مرد سے شادی کرنے والی 20 سالہ ویتنامی خاتون 'تھچ تھی ہوئینگ' اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہوگئی۔

اس واقعے کے بعد سیئول حکومت نے شادی کے اس کاروبار کی روک تھام کے لیے ایک ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا۔ تھچ تھی ہوئینگ کو جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں اس کے 47 سالہ شوہر نے شادی کے 8 دن بعد چاقو گھونپ کر قتل کردیا تھا۔ ہوئینگ کے شوہر کا کہنا تھا کہ لڑائی کے دوران ایک آواز نے اسے اپنی بیوی کو قتل کرنے پر اکسایا۔ جنوبی کوریا کی پولیس کے مطابق جولائی 2005 سے لے کر اب تک اس آدمی کا 57 مرتبہ ذہنی علاج ہوچکا ہے۔ ویتنامی میڈیا کا کہنا یے کے ہوئینگ اور اس کے شوہر کی ملاقات ایک شادی کروانے والی ایجینسی کے ذریعے ہوئی تھی۔

ہوئینگ کی موت کے باوجود بھی ویتنامی حکومت کی ایک خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی شادی کروانے والے ایسے اداروں کو بند کرنا مشکل ہوگا، کیونکہ یہ پتہ چلانا دشوار عمل ہے کہ کون سی شادی قانونی طور پر ہوئی اور کونسی غیر قانونی طور پر۔

ایجنٹوں اور رشتہ کرانے والے اداروں کے علاوہ ایسی بہت سی شادیاں رشتےداروں کے ذریعے بھی ہوتی ہیں۔ مگر ڈینیل بیلانگر کے مطابق اکثر رشتےدار بھی انہی غیر قانونی شادی کروانے والے اداروں سے ہی رابطہ کرتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ رشتہ کرانے والے ادارے دونوں ممالک میں سرگرم ہوتے ہیں، تاہم اس ضِمن میں خاندانی نیٹ ورک کا کردار بڑھتا جارہا ہے۔

جنو بی کوریا سے قبل غیر ملکی مردوں سے شادی کرنے والی خواتین کی خوابوں کی منزل تائیوان تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1990 سے اب تک قریب ایک لاکھ ویتنامی خواتین نے یہاں شادی کی۔

تائیوان کی 'سنیاٹسین' یونیورسٹی میں شعبہ سائیکالوجی کے ڈائریکٹر 'ہونگ زین وانگ' کا کہنا ہے کہ کچھ سال پہلے جب تائیوان نے اس طرح کی شادیوں کے لئے جب اپنے قوانین سخت کردیے تو ویتنامی خواتین کی منزل تائیوان سے جنوبی کوریا منتقل ہوگئی۔ گزشتہ برس تائیوان نے کچھ مجرمانہ واقعات کے بعد رشتے کروانے والے اداروں پر پابندی عائد کردی تھی۔

کینیڈا کی محققہ ڈینیل بیلانگر کے مطابق تمام ترخطرات کے باوجود، بہتر زندگی اور اپنےخاندان کی مدد کرنے کی خواہش ہر ماہ پانچ سے چھ عورتوں کو جنوبی کوریا جاکر شادی کرنے اور پھر مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ایسی خواتین کے لئے قائم امدادی مراکز کا رخ کرنے پرمجبور کرتی ہے۔

رپورٹ : سمن جعفری

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس