1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ویب سائٹس کی بندش، کولمبو حکومت پر تنقید

سری لنکا کی مرکزی اپوزیشن اور ذرائع ابلاغ کے حقوق کی تنظیموں نے حکومت کی جانب سے پانچ ویب سائٹس کو بلاک کیے جانے کی مذمت کی ہے۔ یہ ویب سائٹس حکمران جماعت اور اس کے رہنماؤں پر تنقیدی مواد پیش کرتی تھیں۔

default

یہ مذمتی بیانات ویب سائٹس کو بلاک کیے جانے اور وزارت ذرائع ابلاغ اور اطلاعات کے اس حکم کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ سری لنکا سے متعلق معلومات دینے والی تمام ویب سائٹس اس وزارت سے رجسٹریشن حاصل کریں۔ مرکزی اپوزیشن جماعت یونائیٹڈ پارٹی (یو این پی) نے ان اقدامات کو ’غیرجمہوری‘ قرار دیا ہے۔ یو این پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے معلومات تک رسائی کے عوامی حق میں رکاوٹ آئے گی۔

یواین پی کے رکن پارلیمنٹ منگلا سماراویرا نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے ساتھ گفتگو میں کہا: ’’ویب سائٹوں کی رجسٹریشن سے متعلق حکومتی اعلان نے ہمیں حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ کچھ بھی نہیں ہے بلکہ حکومت خوفزدہ ہے۔‘‘

Sri Lanka Flagge

کولمبو حکام نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے

سری لنکا ورکنگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے قائم مقام صدر گناسیری کوتھیگوڈا نے بھی اس حکومتی اقدام کو غیرجمہوری قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔ یونائیٹڈ میڈیا فورم کے صدر سجیت منگلا ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم ویب سائٹس کو بلاک کیے جانے کے خلاف احتجاج کی امید رکھتی ہے۔ ان اقدامات کا نشانہ بننے والی زیادہ تر ویب سائٹیں بدعنوانی کے خلاف مضامین اور خبریں پیش کرتی ہیں۔

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ اسے ان لوگوں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی ہیں جو متعدد ویب سائٹس پر جاری کی گئی رپورٹوں کی وجہ سے بدنام ہوئے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے: ’’ان ویب سائٹس پر جاری کی گئی مخصوص رپورٹوں کا مواد ملک، ریاستی سربراہ، وزراء، اعلیٰ سرکاری اہلکاروں اور باعزت شخصیتوں  کی ساکھ کے لیے خطرناک ہے، جنہیں دانستہ طور پر کردار کشی کی اس مہم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

اس وزارت کے مطابق اسے یقین ہے کہ ان ’پراسرار‘ ویب سائٹس کو چلانے والے لوگ حکومت کے خلاف بداعتمادی کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ کولمبو حکومت کی جانب سے بلاک کی گئی ویب سائٹس درج ذیل ہیں۔

www.lankaenews.com

www.lankawaynews.com

srilankamirror.com

srilankaguardian.com

paparacigossip9.com

رپورٹ: ندیم گِل خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس