1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ویب ایڈریس اب ہندی زبان میں بھی

Internet Corporation for Assigned Names and Numbers نے ایک تاریخی فیصلے میں ہندی، چینی، عربی، عبرانی اور کوریائی زبانوں میں بھی اب ویب ایڈریسز جاری کرنے کا اعلان کردیا ہے

default

اس فیصلے کا اعلان جنوبی کوریا کے دارلحکومت سیول میں ICANN تنظیم کے اہم اجلاس کے بعد ہوا۔ اس موقع پر کہا گیا کہ انٹرنیٹ کی ایجاد کے لگ بھگ چالیس بعد کے اس فیصلے سے دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنےوالوں کی تعداد میں بے پنا اضافہ ہوجائے گا۔

آج تک یہ اصول رہا تھا کہ کسی بھی ویب سائٹ کا ایڈریس لاطینی زبان کے حروف A تا Z یعنی ڈاٹ کام، ڈاٹ آرگ، ڈاک پی کے وغیرہ کی طرز پر لکھا جاتا تھا، تاہم عنقریب ایسا ہونے جارہا ہے جب ویب سائٹس کے ایڈریسز لاطینی کے علاوہ ہندی، چینی، عربی، عبرانی اور کوریائی زبانوں کے حروف میں بھی لکھے جاسکیں گے۔

ICANN نامی تنظیم کے مطابق غیر لاطینی زبانوں کی سب سے زیادہ مانگ چینی اور عربی زبانیں بولنے والوں خطوں میں ہے۔ فیصلے کے بعد ان پانچ زبانوں میں انٹر نیٹ ایڈریسز جاری کرنے کے لئے سولہ نومبر سے درخواستوں کی وصولی شروع کردی جائے گی۔ ICANNکے سربراہ پیٹر ڈینگیٹ کے بقول یہ فیصلہ انٹرنیٹ کی اب تک کی چالیس سالہ تاریخ کی سب سے بڑی تکنیکی تبدیلی ہے۔

سیول میں اس معاملے پر غور کرنے کے لئے بلائے گئے اجلاس کا بنیادی مقصد انٹرنیٹ پر لاطینی حروف کی اجارہ داری ختم کرنا اور اسے مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کو مزید قریب لانے کے لئےلائحہ عمل طے کرنا تھا۔

یاد رہے کہ ICANN تنظیم امریکی محکمہ اقتصادیات کے تحت سن انیس سو اٹھانوے میں قائم کی گئی تھی جس کا بنیادی مقصد اعلیٰ سطح کے ڈومینز یعنی Top Level Domains جیسے ڈاٹ کام اور ملکی سطح کے ڈومینز جسیے ڈاٹ پی کے ڈاک ڈی ای وغیر جاری کرنا تھا۔

Symbolbild China Internet Internetcafe lan party zensur

انٹر نیٹ استعمال کرنے والے سولہ ارب افراد میں سے ساٹھ فیصد کی مادری زبان انگریزی نہیں ہے

اس تنظیم کا صدر دفتر کیلی فورنیا امریکہ میں ہے۔ گزشتہ مہینے ہی امریکی حکومت نے ICAN پر حکومتی پابندیوں کا خاتمہ کرتے ہوے اسے ایک آزاد اور غیر منافع بخش تنظیم کے طورپر کام کرنے کی اجازت دی تھی۔

سیول میں اس اجلاس کی میزبانی کرنے والے کوریائی سیکیوریٹی ایجنسی برائے انٹرنیٹ کے ڈائریکٹر کانگ ہئی ینگ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نا صرف کوریائی عوام کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے بلکہ ان بے شمار لوگوں کے لئے بھی بہت اہم ہے جن کی مادری زبان انگریزی نہیں ہے۔

محتاط اندازے کے مطابق انٹر نیٹ استعمال کرنے والے ایک اعشاریہ چھ بلئن یعنی سولہ ارب افراد میں سے آدھی سے زیادہ یعنی ساٹھ فیصد آبادی کی مادری زبان انگریزی نہیں ہے۔

ابتدائی طورپر ، ICANN اگلے مہینے کی سولہ تاریخ سے ہندی، عربی، چینی، عبرانی اور کوریائی زبانوں میں صرف International Domain Names کے لئے درخواستیں وصول کرے گی مثلا ًکوریا کے لئے کے آر اور عرب امارات کے لئے اے ای۔ اگلے مرحلے میں ہر قسم کے ویب ایڈریسز انگریزی کے علاوہ ان پانچ زبانوں میں بھی جاری کرنے کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا۔

رپورٹ شادی خان سیف

ادارت عدنان اسحٰق