1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

وہ جو دنیائے کھیل کو سوگوار چھوڑ گئے

کھیل کی دُنیا میں 2009ء میں جہاں کئی ریکارڈ بنے، وہیں یہ سال شائقین کو سوگوار بھی چھوڑے جارہا ہے۔ اس برس کھیل کے آسمان پر چمکنے والے کئی ستارے ہمیں چھوڑے گئے۔

default

اسکینگ لیجنڈ Toni Sailor تہتر سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سیلر ایک طویل عرصے سے بیمار تھے۔ انہیں ’Blitz from Kitz‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ انہوں نے اسکینگ کے اپنے چھ سالہ کیریئر میں نے 1956ء اولمپک میں تین گولڈ میڈل جیتے تھے۔ اس کے علاوہ سات عالمی ٹائٹلز بھی حاصل کئے۔

Arturo Gatti اطالوی نژاد کینیڈین باکسر تھے۔ وہ دو مرتبہ عالمی چیمپئن رہے۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں گزار رہے تھے کہ اچانک انہوں نے خود کشی کر لی۔ ابتدائی طور پر شبہ تھا کہ ان کی بیوی نے انہیں قتل کیا ہے۔ 37 سالہ گاٹی نے 2007ء میں باکسنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کے دوران چالیس میں سے اکتیس مقابلے ناک آؤٹ کی بنیاد پر جیتے۔

سائیکلسٹ Zinaida Dajka کا تعلق بیلا روس سے تھا۔ اڑتیس سالہ Zinaida روڈ ریس کی عالمی چیمپئن تھیں۔ انہیں سائیکلنگ کے دوران ایک بے قابو کار نے ٹکر ماری ، جس سے وہ ہلاک ہو گئیں۔ اسی طرح بیلجیئم کے مشہور سائیکلسٹ Frank Vandenbroucke کا چونتیس سال کی عمر میں انتقال ہوا۔

Robert Enke gestorben

رابرٹ اینکے

فٹ بال کے کھیل کو سب سے بڑا نقصان جرمن قومی ٹیم کے کھلاڑی رابرٹ اینکے کی صورت میں اٹھانا پڑا۔ ڈپریشن کی بیماری کی وجہ سے بتیس سالہ اینکے نے اپنی جان لے لی۔ ان کا شمار جرمنی کے مایہ ناز گول کیپروں میں ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ انگلینڈ ٹیم کے سابق کھلاڑی سر بوبی روبسن 76 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ 1990ء کے عالمی کپ کے اس سیمی فائنل میں بھی شریک تھے، جو ارجنٹائن کے کھلاڑی ڈیاگو میراڈونا کے ہینڈ بال کی وجہ سے متنازعہ ہو گیا تھا۔

جاپان کی جانب سے اولمپک مقابلوں میں پہلی مرتبہ انفرادی طور پر گولڈ میڈل حاصل کرنے والے جمناسٹ Yukio Endo، 72سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ ان کی وجہ سے ہی جاپان کی مردوں کی ٹیم 1960ء کے اولمپک کے مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اسی طرح Endo نے 1964ء کے اولپمک مقابلوں میں ایک مرتبہ پھر گولڈ میڈل جیت کر جمناسٹک سے سابق سویت یونین کی اجارہ داری ختم کی تھی۔

تین مرتبہ ٹینس کے گرینڈ سلیم کے فاتح ، اور چالیس کی دہائی کے امریکی ٹینس اسٹار Jack Kramer اٹھاسی برس کے عمر میں چل بسے۔ وہ چالیس کی دہائی کے اواخر میں ٹینس کے عالمی نمبر ایک کھلاڑی تھے۔ انہوں نے ومبلڈن اور یو ایس اوپن کے علاوہ کئی اہم ٹورنامنٹس میں کامیابی حاصل کی۔Kramer نے 1954ء میں کمر کی تکلیف کی وجہ سے اس کھیل سے ریٹائر منٹ لے لی تھی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گِل

DW.COM