1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے

دنیا کے مختلف ملکوں میں لاپتہ ہو جانے والے افراد کی تعداد کا تعین کرنا بہت مشکل ہے۔ ساٹھ سے زائد ملکوں میں متحرک انٹرنیشنل ریڈ کراس کے مطابق ایسے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

لاپتہ ہو جانے والے افراد میں سماجی کارکن، صحافی، وکلا، قیدی، مہاجرین، حکومت مخالف سیاسی کارکن، مسلح تنازعات میں ملوث افراد اور ذاتی دشمنی جیسے حالات کا شکار شامل ہیں۔ ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو مسلح کشیدگی و لڑائی میں گھربار چھوڑنے والے خان دانوں کے ہم راہ محفوظ مقامات کی تلاش میں حالات کا شکار ہو کر گم ہو جاتے ہیں۔

لاپتہ افراد کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ لاپتہ ہو جانے والے افراد کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔ اس خطے کے ملکوں میں افغانستان، پاکستان، سری لنکا، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ شامل ہیں جہاں لاپتہ افراد کی تعداد دنیا بھر کی مجموعی تعداد کا بیس فیصد ہے۔ ان ملکوں میں سیاسی عدم استحکام کے علاوہ سلامتی کی مخدوش صورت حال کے ساتھ ہولناک زلزلے اور خوفناک سیلاب بھی افراد کو ہڑپ کر لیتے ہیں۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ اس خطے کے کئی ملکوں میں انتہائی شدید مسلح تنازعات بھی پائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں انتہا پسند مسلح کارروائیوں میں مصروف ہیں تو افغانستان میں طالبان عسکریت پسند حکومت اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی صوبے بلوچستان میں بھی سیاسی حقوق کے حصول کے لیے بلوچ علیحدگی پسند اپنی مسلح کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت میں بھی ماؤ نواز ہتھیار لیے گھومتے پھرتے ہیں جبکہ جموں و کشمیر میں حکومتی فوج علیحدگی پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے۔ بنگلہ دیش کو اپنے ملک کے جہادیوں سے خطرات لاحق ہیں۔

Pakistan Zeenat Shahzadi Journalistin

پاکستان میں نوجوان خاتون صحافی زینت شہزادی بھی لاپتہ افراد میں شمار ہوتی ہے

سری لنکا میں چھبیس برس تک تامل علیحدگی پسندوں اور حکومت کے درمیان مسلح چپقلش جاری رہی تھی۔ اس عرصے میں پینسٹھ ہزار افراد لاپتہ ہوئے اور موجودہ حکومت کو اِس مناسبت سے آزاد تحقیقات کے لیے عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔ بنگلہ دیش میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے کوشش کرنے والے گروپ ادھیکار کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں تین سو کے قریب افراد کے لاپتہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے اور ان کے خاندانوں اور دوستوں کے مطابق انہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں محتاط اندازوں کے مطابق آٹھ ہزار افراد لاپتہ ہیں اور اُن کا سراغ ملنا محال ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اِن افراد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مضبوط سیاسی عمل سے ان افراد کی بازیابی ممکن ہے لیکن جنوبی ایشیا کے ان ملکوں میں لاپتہ افراد کے لیے تحریک چلانے والے بھی گم ہو جاتے ہیں۔

DW.COM