1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

وہسکی، رقص اور مستی: کراچی کے خفیہ نائٹ کلب

کراچی شہر کبھی اپنے نائٹ کلبوں کی وجہ سے مشہور تھا، جہاں الکوحل دستیاب ہوتی تھی اور جاز موسیقی پر تھرکتے جسم موج و مستی کیا کرتے تھے۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب ان نائٹ کلبوں میں لوگ مغربی کلچر کا بھرپور مزہ لیا کرتے تھے۔

آج ایک مرتبہ پھر نوجوان نسل اپنے والدین کی روایتی پارٹیوں کو بحال کرنے کی کوشش میں ہے، لیکن اب یہ سب کچھ بند دروازوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ پاکستان کی اقتصادی شہ رگ تصور کیا جانے والا شہر کراچی سیاسی دشمنی، منظم تشدد اور جرائم کی وجہ سے مشہور ہے لیکن اسی شہر میں لوگ انتہائی پرسکون زندگی بھی بسر کرتے ہیں۔ کراچی کے لگژری ہوٹلوں میں نصف شب کی پارٹیوں کا منعقد کیا جانا معمول کی بات ہے۔

اس بندرگاہی شہر کے ایک لگژری ہوٹل میں پارٹی شروع ہوئی ہے، وہاں سینکڑوں لوگ موجود ہیں، جو موسیقی کی تھاپ پر رقص میں مصروف ہیں جبکہ وہاں بار میں بھی رش لگا ہوا ہے۔ ایک نوجوان خاتون ڈی جے موسیقی کی لہروں کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اس ڈی جے کے جسم پر ٹیٹو کی صورت میں دیدہ زیب نقش و نگار اس کے کپڑوں سے باہر جھانک رہے ہیں۔ مرد زیادہ تر پنیٹ کوٹ میں ملبوس ہیں، جو سگریٹ پر سگریٹ پیتے جا رہے ہیں۔ چست اور لبھانے والے لباسوں میں ملبوس خواتین ڈانس فلور پر فاخرانہ انداز میں اتر رہی ہیں۔ اس کلب میں سبھی لوگ الیکٹرو Daft Punk میوزک پر رقص میں بھی مصروف ہیں۔

اس کلب میں موجود زیادہ تر ایسے نوجوان ہیں، جو مغربی معاشروں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹے ہیں۔ وہاں ایسی پارٹیوں کی تشہیر نہیں کی جاتی بلکہ مخصوص طبقے کے لوگ ہی ان میں شریک ہوتے ہیں۔ اس ہوٹل کے باہر کسی کو معلوم نہیں کہ وہاں اندر کیا ہو رہا ہے۔ اس نائٹ کلب کی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ان پارٹیوں کے بارے میں خود کش حملہ آوروں اور انتہا پسند مذہبی رہنماؤں کو علم نہ ہی ہو۔

پاکستان میں ستّر کی دہائی کے اواخر میں اسلام پسندی پھیلنا شروع ہوئی تھی۔ اس سے قبل وہاں نائٹ کلب اور نائٹ لائف انتہائی شاندار قرار دی جاتی تھی۔ پاکستان میں آزاد خیالی اور برداشت کے حوالے سے 1950ء سے1977ء کا دور آج بھی مثالی قرار دیا جاتا ہے۔ اس زمانے میں بالخصوص کراچی کے باشندے ہفتہ بھر کے کام کاج کے بعد ویک اینڈز پر پارٹیوں کا رخ کرتے تھے اور مشہور امریکی جاز موسیقار ڈی زی گیلسپی اور ڈیوک اینلگٹن کراچی میں ہی شائقین کے بڑے بڑے ہجوموں کے سامنے براہ راست پرفارم کیا کرتے تھے۔

اس زمانے میں کراچی میں ’پلے بوائے‘، Excelsior، Oasis، Samar، Club 007 اور دیگر نائٹ کلب ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہوتے تھے۔ ان کلبوں میں شہر کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جاتی تھی۔ میٹروپول ہوٹل کے مینیجر امتیاز مغل نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ماضی میں ہم بینڈز، ڈرنکس اور ڈانس کے ساتھ شاندار نائٹ پارٹیوں کا اہتمام کیا کرتے تھے۔‘‘ یہ ہوٹل بھی کسی زمانے میں نائٹ کلب کے حوالے سے انتہائی مقبول تھا۔ امتیاز مغل نے مزید کہا، ’’یہ مقام اب بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔‘‘ ہوٹل کی کار پارکنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یہ کسی زمانے میں ڈسکو اور نائٹ کلب ہوا کرتا تھا۔‘‘ انہوں نے اداس لہجے میں کہا کہ سب کچھ بدل گیا ہے اور اب یہ سوچ کر بھی دکھ ہوتا ہے۔

Rock Konzert Menschen Halle Konzerthalle Band Musik Live Symbolbild

کراچی کے نائٹ کلبوں میں لوگ مغربی کلچر کا بھرپور مزہ لیا کرتے تھے

ستّر کی دہائی کا آغاز پاکستان میں روشن خیالی کا دور تصور کیا جاتا ہے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی ان کلبوں میں جایا کرتے تھے۔ مشہور ہے کہ وہ وہسکی پسند کیا کرتے تھے۔ تاہم ملک میں اسلام پسندی کی وجہ سے بھٹو کی ہی حکومت نے 1977ء میں شراب پر پابندی لگا دی تھی۔ کچھ عرصے بعد ہی فوجی آمر ضیا الحق نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ ضیا الحق نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد مذہب اسلام کا سہارا لیا۔ اسّی کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں نائٹ لائف اور نائٹ کلب ختم ہو گئے تھے۔

تاہم لوگ چھپ کر نجی محفلوں کا اہتمام کرتے رہے، یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ پائلٹ عقیل اختر نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ماہ میں دو مرتبہ اپنے گھر کو نائٹ کلب میں تبدیل کر دیتے ہیں، جہاں منتخب لوگوں اور دوستوں کو وہی ماحول دستیاب ہوتا ہے، جو کسی نائٹ کلب سے کم نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ تو ان پارٹیوں کی تشہیر کرتے ہیں اور نہ ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ان کا کوئی تذکرہ کیا جاتا ہے۔