1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

وکی لیکس کے مقابلے میں اوپن لیکس آئے گی

دنیا بھر میں خفیہ معلومات کو عام کر کے تہلکہ مچانے والی ویب سائٹ وکی لیکس کا سابق عملہ اس کے مقابلے میں اوپن لیکس نامی ایک نئی ویب سائٹ قائم کرنے کی تیاریوں میں ہے۔

default

وکی لیکس کے بانی جولیان آسانج کے ایک سابق جرمن ساتھی ڈانیئل ڈومشائٹ بیرگ اوپن لیکس نامی ایک نئی ویب سائٹ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ وکی لیکس کی اجارہ داری سے پریشان ہیں۔ اوپن لیکس کے قیام کے ذریعے وہ زیادہ سے زیادہ اور معیاری معلومات عوام کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔

کیا حاصل ہونے والی تمام معلومات کو شائع کر دینا چاہیے؟ اس بارے میں ان کا کہنا ہے، ’میں اس طریقے کو بالکل صیح سمجھتا ہوں کہ فلٹر کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ معلومات شائع کی جائیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت کھڑا ہوتا ہے جب آپ کے پاس کچھ اہم معلومات ہوں اور آپ کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ اسے شائع کیا جائے یا نہیں۔ میرے خیال میں اس مقصد کے لئے ہمیں ایسے افراد کی ضرورت ہے جو تجربہ کار ہوں۔’

Daniel Domscheid-Berg

جولیان آسانج کے سابق جرمن ساتھی ڈانیئل ڈومشائٹ بیرگ

ڈومشائٹ بیرگ کی ویب سائٹ اوپن لیکس میں سب سے اہم چیز ’’ گمنام میل باکس‘‘ ہے۔ یہ میل باکس ان لوگوں کے لئے ہے جو بغیر نام اور پتہ بتائے کسی بھی قسم کا متنازعہ مواد شائع کرنا چاہتے ہیں۔ خفیہ معلومات بھیجنے کا یہ ایک نیا طریقہ ہے۔ ابھی تک خفیہ معلومات کسی خط کے ذریعے بھیجی جاتی تھیں یا پھر کسی ملاقات کے ذریعے کسی صحافی تک پہنچائی جاتی تھیں۔

اوپن لیکس کی مالی معاونت کے لئے رقم کہاں سے آئے گی؟ اس کے بارے میں بیرگ کہتے ہیں، ’اوپن لیکس کو عطیات سے حاصل ہونے والی رقم سے چلایا جائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ وکی لیکس کے موجودہ تجربات سے عوام یہ بات سمجھتی ہے کہ اس طرح کے منصوبوں کی مدد کرنا کیوں ضروری ہے۔ ہم نے ایک کمیونٹی ماڈل تیار کیا ہے۔ اس ماڈل کے تحت ہمیں صرف ماہانہ 400 یورو کی ضرورت ہے۔ میری رائے کے مطابق یہ ایک انتہائی معمولی رقم ہے۔’

وکی لیکس ماڈل کے حامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ آج کی دنیا میں معلومات کی ایک قیمت ہے۔ جتنی زیادہ اہم معلومات ہوں گی، اس کے لئے اتنی زیادہ رقم ادا کی جائے گی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM