1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وکی لیکس کے بانی کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری

اہم خفیہ دستاویزات شائع کرنے والی معروف ویب سائٹ وکی لیکس کے بانی جولیان آسانگے کے خلاف جنسی زیادتی اور مارپیٹ کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دئے گئے ہیں۔

default

جولیان اسانگے سویڈن کی پائریٹ پارٹی کی انا ٹروبیرگ کے ہمراہ، فائل فوٹو

سٹاک ہولم میں سویڈش دفتر استغاثہ کی ایک خاتون ترجمان نے ہفتے کے روز بتایا کہ جولیان آسانگے کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جمعے کو رات گئے جاری کئے گئے۔ وکی لیکس کے بانی آسانگے کے بارے میں اس خاتون ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں، انہیں سویڈن کی پولیس کے ساتھ رابطہ کرنا چاہئے تاکہ ان سے دو مختلف واقعات میں جنسی زیادتی اور جسمانی مارپیٹ کے الزامات سے متعلق پوچھ گچھ کی جا سکے۔

خود آسانگے نے اپنے خلاف ان الزامات کی وکی لیکس کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے تردید کی ہے۔ ان الزامات کی تفصیلات سب سے پہلے سویڈن کے اخبار ’’ایکسپریسن ‘‘ نے شائع کی تھیں۔ یہ رپورٹیں بھی ملی ہیں کہ آسانگے کے خلاف جنسی زیادتی کا الزام ان کی بیوی کی طرف سے لگایا گیا ہے۔

Wikileaks Afghanistan

وکی لیکس کی ویب سائٹ کا ایک منظر

مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق اپنے خلاف وارنٹ گرفتاری کی اخباری تفصیلات پڑھنے کے بعد جولیان آسانگے نے کہا کہ اس وقت ایسی رپورٹوں کی اشاعت افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا کہ وکی لیکس کی وجہ سے ان پر ’’ گندی چالیں‘‘ آزمائی جائیں گی اور جنسی زیادتی کے مبینہ الزامات اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہیں۔

وکی لیکس نامی ویب سائٹ نے ابھی کچھ عرصہ قبل ہی افغانستان میں جنگ سے متعلق ایسی ہزار ہا خفیہ دستاویزات شائع کر دی تھیں، جن کی اشاعت سے مغربی ملکوں کی افغان جنگ سے متعلق پالیسی میں ہلچل پیدا ہو گئی تھی۔ یہ تمام دستاویزات امریکی فوج کی ملکیت تھیں، جن کی اشاعت پر امریکی محکمہ دفاع نے وکی لیکس کی بھرپورمذمت بھی کی تھی۔ پھر پینٹاگون نے یہ مطالبہ بھی کردیا تھا کہ وکی لیکس یہ تمام خفیہ فوجی دستاویزات امریکہ کو واپس کرے۔

Wikileaks Irak Bradley Manning

وکی لیکس کی جانب سے جاری کئی گئی ایک ویڈیو میں عراق متعینہ امریکی افواج کو نہتے شہریوں پر فائرنگ کرتے ہوئے بھی دکھایا جاچکا ہے

جولیان آسانگے ایک آسٹریلوی شہری ہیں لیکن وہ گزشتہ ہفتے وکی لیکس کے حوالے سے چند قانونی معاملات کے سلسلے میں سویڈن گئے تھے ۔ وکی لیکس کے نیٹ ورک کے بہت سے’ سرور‘ سویڈن میں ہیں ،جہاں اپنے دورے کے دوران جولیان آسانگے نے اپنے ادارے کی طرف سے افغان جنگ سے متعلق ہزاروں خفیہ دستاویزات کی اشاعت کا دفاع بھی کیا تھا۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس