1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وکی لیکس کا بانی پھر خبروں میں، سویڈن کی اسانج سے پوچھ گچھ

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ ایکواڈور نے سویڈن کے حکام کو یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں اسانج سے پوچھ گچھ کر سکتے ہیں۔

London ecuadorianische Botschaft Julian Assange

جولین اسانج نے گرفتاری سے بچنے کے لیے چار سال سے زائد عرصے سے برطانوی دارالحکومت لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لے رکھی ہے

آسٹریلیا کے شہری جولین اسانج نے سویڈن کی جانب سے گرفتاری سے بچنے کے لیے برطانوی دارالحکومت لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لے رکھی ہے۔ ایکواڈور کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ’آنے والے ہفتوں میں‘ سویڈن کے ایک جج کو لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی تاکہ وہ پنتالیس سالہ جولین اسانج کا بیان لے سکیں۔

ابھی اس ملاقات کے لیے کسی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا ہے کیونکہ سویڈن کا متعلقہ پراسیکیوٹر آج کل چھٹی پر ہے۔ اسانج کے وکلاء نے اس معاملے میں اس تازہ پیشرفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسانج 2010ء میں لگنے والے جنسی زیادتی کے الزامات کے سلسلے میں سویڈن کو مطلوب ہیں لیکن سویڈن کی طرف سے اپنی گرفتاری سے بچنے کے لیے وکی لیکس کے بانی نے گزشتہ چار سال سے بھی زیادہ عرصے سے لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لے رکھی ہے۔

اسانج اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی صحت سے انکار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اسانج کے مطابق جس جنسی تعلق کے لیے اُن پر ’جنسی زیادتی‘ کا الزام لگایا گیا ہے، وہ فریقین کی مرضی سے عمل میں آیا تھا۔ اسانج کے مطابق ان الزامات کے پیچھے دراصل سیاسی محرکات کارفرما ہیں، جن کا مقصد اُن کے اُس کردار کے لیے انتقام لینا ہے، جو اُنہوں نے وِکی لیکس کے پلیٹ فارم سے ایسی خفیہ دستاویزات افشا کرنے میں ادا کیا ہے، جو بہت سی حکومتوں اور عہدیداروں کے لیے شرمندگی کا باعث بنی ہیں۔

جولین اسانج کو چند سال پہلے اہم سفارتی ’کیبلز‘ منظر عام پر لانے کی وجہ سے عالمی شہرت ملی تھی۔ اسانج کو، جنہیں ایکواڈور کے لندن کے سفارتی مشن میں رہتے اب پانچواں سال شروع ہو چکا ہے، اس سال فروری میں ایک اہم کامیابی ملی تھی، جب من مانی گرفتاری سے متعلق اقوام متحدہ کا ایک ورکنگ گروپ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ سویڈن اور برطانیہ نے اسانج کے بنیادی حقوق کو پامال کیا ہے۔

Wikileaks

جولین اسانج کے ادارے وکی لیکس کی طرف سے منظر عام پر لائے جانے والے راز پوری دنیا میں تہلکہ مچا چکے ہیں

ایکواڈور کا شروع سے موقف یہ رہا ہے کہ وہ اسانج کو سویڈش حکام کی تحویل میں دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ سٹاک ہولم حکومت یہ ضمانت دے کہ اسانج کو آگے امریکا کے حوالے نہیں کیا جائے گا، جہاں اُن کے خلاف 2010ء میں امریکا کی پانچ لاکھ سفارتی ’کیبلز‘ کے افشا کے الزام میں مقدمہ چلنے کا امکان ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایکواڈور کا کہنا ہے کہ وہ اپنے 2012ء کے اس وعدے پر بدستور قائم ہے کہ ’سیاسی تعاقب کے خدشات کے باعث‘ جولین اسانج کو سیاسی پناہ دی جا سکتی ہے۔