1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وکی لیکس کا اگلہ ’ہدف‘ روسی حکمران

دنیا بھر میں امریکی سفارتی راز افشاں کرنے کے بعد وکی لیکس نے جلد ہی روسی حکمراں جماعت کے منظم جرائم میں ملوث ہونےکے ثبوت عام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

default

روس میں حکومت پر تنقید کےحوالے سے سرفہرست ہفت روزہ اخبار نوایا گازیٹا کے مطابق وکی لیکس کے تعاون سے بیش بہا معلومات اس کے ہاتھ لگی ہے۔

تحقیقی رپورٹنگ کے حوالے سے شہرت رکھنے والے اس ہفت روزے کی ترجمان نادیزھدا پروسینکووا کا کہنا ہے کہ نئے انکشافات چونکا دینے والے ہوں گے۔ ان کے مطابق اس ضمن میں تیل کے کاروبار سے وابستہ زیر حراست ارب پتی میخائیل خودورکوفسکی اور مقتول صحافی انا پولیٹکووسکایا سے متعلق خفیہ معلومات بھی نئی لیکس میں شامل ہیں۔

NO FLASH Wikileaks Assange

وکی لیکس کے ایڈیٹر ان چیف جولیان آسانج عندیہ دے چکے ہیں کہ روسی عوام جلد اپنے حکمرانوں کے بارے میں مزید جانیں گے

اخبارکی ویب سائٹ پر لکھا گیا ہےکہ جب وکی لیکس کے چیف ایڈیٹر، جولیان آسانج نےکہا تھا کہ روسی عوام کوجلد اپنے ملک سے متعلق بہت سے نئی باتیں پتہ چلیں گی اور وہ محض جھوٹا دعویٰ نہیں کر رہے تھے۔ ہماری شراکت کا مقصد اعلیٰ سطح پر بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنا ہے۔‘‘ روسی صدر دیمتری میدویدیف نے وکی لیکس کے ذریعے عام کئےگئے امریکی سفارتکاروں کی اُس رائے کو یکسر مسترد کیا ہے، جس میں ماسکو حکومت کو بدعنوان ٹہرایا گیا تھا۔

دورہ ء بھارت کے دوران صحافیوں سے بات چیت میں صدر میدودیف نے سخت الفاظ میں کہا، ’’ ہم سفارتی حلقوں میں روس سے متعلق ہونے والی گفتگو کوخاطر میں نہیں لاتے، یہ محض ان کی رائے ہے۔‘‘

امریکی سفارتکاروں کے مطابق روس میں وزیراعظم ولادی میر پوتن کا راج ہے اور صدر کے اختیارات محدود ہیں۔ وکی لیکس نے امریکی سفارتکاروں کے حوالے سے انکشاف کیا تھا کہ روسی صدر نے بدعنوان عہدیداروں اور جاسوسوں کو بدعنوانی کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔

Russland Presse Nowaja Gaseta Streit um Gulag

Novaya Gazeta ماسکو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کے حوالے سے شناخت رکھتا ہے

ہفت روزہ اخبار نوایا گازیٹا کی ویب سائٹ کے مطابق وکی لیکس میں روس سے متعلق جوباتیں سامنے آئیں ہیں وہ محض ایک آغاز تھا زیادہ جامع حقائق آنے والے دنوں میں منظر عام پر لائے جائیں گے۔ یہ اخبار روس میں تحقیقی رپورٹنگ کے حوالے بین الاقوامی طور پر معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لئے کام کرنے والی متعدد صحافی گزشتہ کچھ عرصے میں قتل کئے گئے، جن میں پولیٹکووسکایا بھی شامل ہیں۔

پولیٹکووسکایا، چیچنیا میں روسی فوج کی مبینہ زیادتیوں پر برملا کڑی تنقید کرتی رہیں۔ انہیں دارلحکومت ماسکو میں7 اکتوبر 2006ء کو قتل کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ روس کا شمار صحافیوں کے حوالے سے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس