1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وکی لیکس ’خطرناک‘ مواد لیک نہ کرے : مائیک مولن

امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے وِکی لیکس سے درخواست کی ہے کہ وہ ’’خطرناک‘‘ مواد کو عام کرنے کا سلسلہ ترک کر دے۔ امریکی انتظامیہ پہلے بھی وکی لیک سے ایسے مطالبات کر چکی ہے۔

default

امریکی نشریاتی ادارے سی این این پر جاری کردہ ایک بیان میں مائیک مولن نے کہا کہ وِکی لیکس کو ہر صورت میں ایسے حساس مواد کو منظر عام پر لانے سے باز رہنا چاہئے۔ انہوں نے وکی لیکس پر جاری کردہ معلومات کو ’’انتہائی خطرناک‘‘ قرار دیا۔

’’میں امید کرتا ہوں کہ وِکی لیکس پر ایسی حساس معلومات جاری کرنے کے ذمہ دار کسی موقع پر یہ سمجھ لیں گے کہ ان کے اس قدم سے کتنے افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ وہ کسی وقت ایسی حساس معلومات کو عام کرنے سے باز آ جائیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر ایسی معلومات منظر عام پر آتی رہیں، تو یہ ایک انتہائی خطرناک عمل ہو گا۔

امریکی نشریاتی ادارےسی این این پر مائیک مولن کے انٹرویو کے اقتباسات جاری کئے گئے ہیں اور یہ انٹرویو کل اتوار کو نشر ہونا ہے۔ مولن نے اپنے اس انٹرویو میں کہا کہ وِکی لیکس ویب سائٹ مستقبل میں بھی حساس معلومات عام کر سکتی ہے۔

’’ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں، جہاں تھوڑی سی معلومات کو معلومات کے ذخیرے میں جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک ایسا نکتہ ء نظر پیدا کیا جا سکتا ہے، جو پہلے موجود نہ ہو۔‘‘

Wikileaks Afghanistan

وکی لیکس پر افغانستان کے حوالے سے شائع کئے گئے دستاویزات

مولن نے کہا کہ وِکی لیکس پر غیر قانونی طور پر جاری کردہ معلومات سے نہ صرف امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو خطرات میں ڈالا جا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان اور دیگر ممالک میں کام کرنے والے متعدد دوسرے افراد کی زندگیوں اور ان کی کوششوں کو بھی مشکلات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

وِکی لیکس کی طرف سے حساس معلومات عام کرنے کا یہ تیسرا موقع ہے۔ اس سے قبل جولائی میں بھی وِکی لیکس پر 77ہزار اہم دستاویزات شائع کر دی گئی تھیں۔ امریکی انتظامیہ اس وقت وِکی لیکس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ماہرین کے مطابق تازہ معلومات کے اجراء کے باعث روس، اسرائیل اور ترکی کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں تلخی پیدا ہو سکتی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس