1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وکی لیکس، ایک برس بعد بھی کلنٹن پریشان

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ وکی لیکس نے امریکی سفارتی کیبلز اور دیگر انتہائی حساس دستاویزات کا عوامی سطح پر اجراء کر کے امریکہ کو ’نقصان‘ پہنچایا۔

default

ہلیری کلنٹن

کلنٹن کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب ایک روز بعد ایک امریکی فوجی تجزیہ کار بریڈلی میننگ، وکی لیکس کو خفیہ اور حساس امریکی دستاویزات کی فراہمی کے الزام میں عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

کلنٹن نے اپنے بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ پر ہر طرح کی معلومات کی موجودگی کے دور میں حساس معلومات کو عوامی سطح پر لا کر افراد اور ان کے اہل خانہ کی زندگیوں کو خطرے سے دوچار کرنا کوئی دانشمندی نہیں۔ ’’ایک ایسے دور میں، جب سائبر اسپیس میں بے شمار معلومات اڑتی پھرتی ہیں۔ ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ کچھ دستاویزات بہت حساس ہوتی ہیں اور ان کے افشا ہونے پر افراد اور ان کے رشتہ داروں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جنہیں محفوظ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔‘‘

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کا بیان، بریڈلی میننگ نامی اس امریکی فوجی کے خلاف واشنگٹن کے قریب ہی

Unterstützer fordern die Freilassung von Bradley Manning

بریڈلی میننگ کی رہائی کے لیے امریکیوں نے مظاہرے بھی کیے

مقدے کے آغاز سے ایک روز قبل سامنے آیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے ہزاروں حساس اور خفیہ امریکی دستاویزات وکی لیکس کو مہیا کیں۔ میننگ کو گزشتہ برس 26 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ہفتے کے روز 24 برس کی عمر کو پہنچنے والے میننگ نے مبینہ طور پر افغانستان اور عراق میں امریکی فوجی کارروائیوں کی دستاویزات، ویڈیوز اور آڈیو فائلز وکی لیکس کو دی تھیں، جس نے بعد میں انہیں انٹرنیٹ پر عوامی سطح پر جاری کر دیا تھا۔

ہلیری کلنٹن نے کہا، ’بدقسمتی سے یہ ایک انتہائی نقصان دہ کام تھا۔ اس سے بہت سے افراد اور ان کے اہل خانہ کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے امریکی حکومت کو انتہائی سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرنا پڑے۔ ‘‘

میننگ کو میری لینڈ کی سیکریٹ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز میں فوجی عدالت کی ابتدائی سماعت کا سامنا کرنا ہو گا۔ میننگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غالباً اس نے عراق اور افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ویڈیوز، آڈیوز اور دیگر معلومات کے علاوہ خفیہ امریکی سفارتی کیبلز کو وکی لیکس کو اس وقت پہنچایا، جب وہ بغداد میں انٹیلیجنس ماہر کے طور پر امریکی فوج کے لیے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس