1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وکی لیکس اور پاکستانی ذرائع ابلاغ

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں وکی لیکس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ میں وکی لیکس پر تنقید کے باوجود آشکارکردہ باتوں کو جھٹلانا فوجیوں اور سیاستدانوں سمیت اس سے متاثرہ تمام لوگوں کے لیے مشکل بنا ہوا ہے۔

default

ان دنوں پاکستان کے ٹی وی شوز، تبصروں، تجزیوں، خبروں، کالموں اور اداریوں میں ہر جگہ وکی لیکس کے انکشافات زیر بحث ہیں۔

پاکستان کے معروف انگریزی اخبار دی نیشن کے ایڈیٹر سلیم بخاری کے مطابق پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ایک عرصے سے وہ باتیں کہی جا رہی تھیں جن کی تصدیق وکی لیکس نے اب کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حکمران اور بااثر طبقے ان باتوں کی ہمیشہ تردید کر تے رہے ہیں، مگر اب پاکستان کی عسکری اور سیاسی اشرافیہ بہت بری طرح بےنقاب ہوگئی ہے۔

سلیم بخاری کے مطابق وہ معاملات اور باتیں جن کا تذکرہ کرنے سے پہلے لوگوں کو سوچنا پڑتا تھا اب وہ باتیں کھلے عام کی جارہی ہیں۔

پاکستانی میں ایک صحافتی طبقہ اپنی باتوں کے سچ ہونے پر خوشی کا اظہار کر رھا ہے تو دوسری طرف پاکستانی میڈیا میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جسے وکی لیکس کی دال میں کچھ کالا نظر آرہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وکی لیکس کی دستاویزات پر مشتمل خبروں کوجاری کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ اپنی اپنی حامی جماعتوں کا خیال بھی رکھ رہے ہیں۔

Pakistan Präsident Asif Ali Zardari

وکی لیکس میں پاکستانی صدر، فوجی سربراہ اور اپوزیشن سمیت کئی رہنماؤں کے بارے میں انکشافات موجود ہیں

پیپپلز پارٹی کے حامی ایک اخبار نے سوموار کے روز یہ ہیڈلائن لگائی،" نواز شریف مقبول ہیں لیکن حکومت نہیں گرا سکتے"۔

مسلم لیگ کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے ایک اخبار کی ہیڈ لائن تھی،"ڈوگر کورٹ نواز شریف کو نا اہل قرار دے گی۔ زرداری کی امریکی سفیر کے سامنے بات سترہ دن بعد پوری ہو گئی"۔

ایک کارٹون میں وکی لیکس کانشانہ بننے والے سیاستدانوں کو فون کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں،" وکی لیکس والے بھائی، مہربانی کرکے عمران خان کے بارے میں بھی کچھ نکالو پلیز"۔

وکی لیکس کے نتیجے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں جو بھونچال آیا ہوا ہے اس کے نقصانات سے بچنے کے لیے کئی ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں کی میڈیا منیجرز بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وکی لیکس کے انکشافات کو دیرپا شکل دینے کے لیئے کئی پاکستانی پبلشرز ان انکشافات کو کتابی شکل دینے کی بھی تیاریاں کر رہے ہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس