1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

وکی لیکس اور امریکہ میں آزادی اظہار

امریکی ایئر فورس نے وکی لیکس کے انکشافات کے بعد اب ان کے افسران اپنے کمپیوٹرز پر کئی بڑے اخبارات اور جرائد پڑھ نہیں سکیں گے۔ اس اقدام پر مختلف حلقے تنقید کر رہے ہیں۔

default

وکی لیکس کے انکشافات کے بعد امریکی انتظامیہ نے اپنے سفارتی نظام کو بہتر بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ تاکہ مزید خفیہ دستاویزات کو خفیہ ہی رکھنا اُن کے لئے ممکن ہو۔ امریکی ایئر فورس نے اسی سلسلے کو آگے بڑھایا ہے۔ اب ان کے افسران اپنے کمپیوٹرز پر کئی بڑے اخبارات اور جرائد پڑھ نہیں سکیں گے۔ صحافیوں کی تنظیموں اور کئی حلقوں نے اس اقدام کو آزدای اظہار پر قدغن سے تعبیر کیا ہے۔

Deutschland USA Fliegerhorst in Büchel

امریکی ایئر فورس کے کمپیوٹرز پر اب دنیا کے کئی معروف اخباروں اور جرائد کی ویب سائٹ دیکھنے پر پابندی ہو گی

وکی لیکس کے انکشافات وقت کے ساتھ ساتھ بہت سے گل کھلا رہے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی ایئر فورس کے کمپیوٹرز پر اب دنیا کے کئی معروف اخباروں اور جرائد کی ویب سائٹ دیکھنے پر پابندی ہو گی۔ ان ذرائع ابلاغ کا جرم یہ تھا کہ یہ وکی لیکس کے انکشافات منظر عام پر لائے تھے۔ ان میں نیویارک ٹائمز ، جرمن جریدہ ڈیئر شپیگل ، برطانوی اخبار دی گارڈین اور ہسپانوی اخبار ال پائیز بھی شامل ہیں۔ امریکی ایئر فورس کے ایک ترجمان نے وال اسٹریٹ جنرل میں تصدیق کی ہے کہ کل پچیس ویب سائٹس ایسی ہیں، جن تک اب ایئر فورس کے افسران کی رسائی ممکن نہیں ہو گی۔

نیویارک ٹائمز کے ایک ترجمان نےکہا یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایئر فورس اپنے افسران کو اس معلومات سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جو ایک عام شہری کی دسترس میں ہے۔ تجزیہ نگار کین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ کسی مسئلے سے نمنٹنے کا یہ ایک مضحکہ خیز انداز ہے۔ شہری حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے اس اقدام کوامریکہ کے آزدائی اظہار کے بنیادی قانون پر حملے سے تعبیر کیا ہے۔

امریکی ریڈیو ڈیموکریسی ناؤ کے مطابق امریکی ایئر فورس کا یہ اقدام سمجھ سے بالا تر ہے۔ وہ کس طرح اپنے اہلکاروں کی نیویارک ٹائمز یا دیگر غیرملکی ذرائع ابلاغ تک رسائی پر پابندی عائد کر سکتی ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ ان اداروں نے خفیہ سفارتی دستاویزات شائع کرنے کی جرات کی تھی۔

Logo der spanischen Zeitung El Pais

ہسپانوی اخبار ال پائیز ، جرمن جریدہ ڈیئر شپیگل اور نیو یارک ٹائمز سمیت کوئی 25 ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا ہے

امریکہ کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں آزادی اظہار کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔ امریکہ میں ایسے بہت سے بیانات دینے کی بھی اجازت ہے، جو دوسرے ممالک میں شدید عوامی ردعمل کا باعث بن سکتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے امریکی قانونی حلقے اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ آزادی اظہار کی حدود کیا ہونی چاہیے۔ اس سے قبل امریکی وزارت دفاع بھی اپنے اہلکاروں کو وکی لیکس کی ویب سائٹ نہ دیکھنے کی تنبیہ کر چکی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: کشور مصطفی

DW.COM

ویب لنکس