1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وکی لیکس: امریکی ایوانوں میں بدستور ہلچل

وکی لیکس پر جاری ہونے والی دستاویزات بدستور امریکی حکومت کے ایوانوں میں ہلچل پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی سفارتکاروں نے گوانتانامو کے قیدیوں کو دیگر ممالک میں منتقل کرنے کے معاملے میں سودے بازی کرنے کی کوشش کی۔

default

وائٹ ہاؤس، واشنگٹن

سلووینیا کو مثلاً ایک قیدی کو اپنے ہاں قبول کرنے کے بدلے میں امریکی صدر باراک اوباما کے ساتھ ملاقات کا عندیہ دیا گیا۔ بیلجیئم سے یہ کہا گیا کہ متعدد قیدیوں کو اپنے ہاں قبول کرنے کی صورت میں یورپ میں اُس کی اہمیت بڑھ جائے گی اور اِس پر زیادہ پیسہ بھی نہیں خرچ ہو گا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ابتدائی گھنٹوں ہی کے دوران بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنے ہم وطنوں سےوعدہ کیا تھا کہ وہ اگلے بارہ مہینوں کے اندر اندر گوانتانامو کو بند کر دیں گے:’’اب سے ایک سال کے اندر اندر گوانتانامو بند کر دیا جائے گا‘‘

آج کوئی اِس بات کا ذکر تک بھی نہیں کرتا۔ اب تو یہ حالت ہے کہ اوباما خوش ہوں گے، اگر اُنہیں گوانتانامو کے بے گناہ تصور کئے جانے والے قیدیوں سے چھٹکارا مل جائے۔ تقریباً ایک سو قیدیوں کے لئے ابھی بھی ایسے ممالک کی تلاش جاری ہے، جو اِنہیں اپنے ہاں قبول کر لیں۔ وکی لیکس کی طرف سے جاری ہونے والی دستاویزات کے مطابق امریکی سفارت کار دیگر ممالک کو اِن قیدیوں کو اپنے ہاں قبول کرنے کی ترغیب دینے کے لئے عجیب و غریب ہتھکنڈوں کے استعمال پر اُتر آئے۔

US Präsident Obama will Guantanamo Verfahren aussetzen

امریکہ کو بدستور ایسے ممالک کی تلاش ہے، جو گوانتانامو کے تقریباً ایک سو قیدیوں کو اپنے ہاں قبول کرنے پر آمادہ ہو جائیں

بتایا گیا ہے کہ سلووینیا کے وزیر اعظم کو اوباما کے ساتھ تصویر اُتروانے اور دو منٹ کی ایک ملاقات کی امید دلائی گئی، بشرطیکہ اُن کا ملک گوانتانامو کے کچھ قیدیوں کی اپنے ہاں منتقلی کے لئے راضی ہو جائے۔ اِسی طرح بیلجیئم کو بالواسطہ طور پر اوباما کے ساتھ ملاقات کی ترغیب دی گئی بشرطیکہ وہ گوانتانامو کے قیدیوں کو انپے ہاں قبول کرنے کے حوالے سے یورپ میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے آمادہ ہو جائے۔

ایک سابق امریکی صدارتی مُشیر جوآن زاراٹ کے مطابق یہ ’سفارتی ہارس ٹریڈنگ‘ اوباما کے پیشرو اور گوانتانامو شروع کرنے والے جورج ڈبلیو بُش کے دَور حکومت ہی میں شروع ہو گئی تھی۔ زاراٹ کے خیال میں، جو بُش کے مشیر رہ چکے ہیں، کبھی کبھی آگے بڑھنے کے لئے ایسی ’ہارس ٹریڈنگ‘ ضروری ہو جاتی ہے:’’لیکن کبھی کبھی معاملات کو سادہ اور آسان طریقے سے حل کرنے کے لئے ایسا کرنا ضروری بھی ہو جاتا ہے۔‘‘

اِن قیدیوں کو اپنے ہاں قبول کرنے والا ممکنہ ملک جتنا زیادہ غریب ہو گا، اُتنا ہی امریکی حکومت کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ صرف تین ملین ڈالر کے بدلے میں بحرالکاہل کی جزیرہ ریاست کیری باتی گوانتانامو کے ایک دو نہیں، ایغور نسل کے اکٹھے سترہ چینی قیدیوں کو اپنے ہاں قیام کی اجازت دینے پر تیار ہو گئی۔ سعودی فرمانروا عبد اللہ اِس طرح کی رقوم پر مسکرا دیں گے کیونکہ یہ اُن کے لئے بہت ہی معمولی ہے۔ اُنہوں نے اوباما کو یہ شاہانہ تجویز دی کہ قیدیوں کی جِلد کے نیچے ویسے ہی الیکٹرانک چِپس لگا دئے جائیں، جیسے کہ سعودی عرب میں قیمتی گھوڑوں اور بازوں کو لگائے جاتے ہیں اور یہ کہ ایسا ہو جائے تو پھر دُنیا کے کسی بھی ملک میں آسانی کے ساتھ اُن کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔

König Abdullah Saudi-Arabien

وکی لیکس کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی تجویز تھی کہ قیدیوں کی نگرانی کے لئے اُن کی جِلد کے نیچے ویسے ہی الیکٹرانک چِپس لگا دئے جائیں، جیسے کہ سعودی عرب میں قیمتی گھوڑوں اور بازوں کو لگائے جاتے ہیں

اِس طرح کی عجیب و غریب تجاویز کے ساتھ ساتھ وکی لیکس کی جاری کردہ اُس بے پناہ دباؤ کا بھی انکشاف کرتی ہیں، جو خاص طور پر بُش حکومت کے سفارتکاروں کی جانب سے گوانتانامو کے حوالے سے ڈالا جاتا رہا۔ مثلاً امریکی حکام اپنے حلیف ملک اسپین کے وکلائے استغاثہ کو اُس وقت کے امریکی وزیرِ دفاغ ڈونلڈ رمز فیلڈ کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے، ہسپانوی ہوائی اڈوں سے سی آئی اے کی خفیہ پروازوں کا جائزہ لینے یا گوانتانامو میں تشدد کے طریقوں کی تحقیقات کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ امریکی سفیر ایڈوارڈو اگوائر نے میڈرڈ حکومت پر واضح کر دیا کہ گوانتانامو ہو یا سی آئی اے کے تفتیشی طریقے، ہسپانوی عدالتوں کا اُن سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ امریکہ کے بین الاقوامی قانون کے سرکردہ ماہر سکاٹ ہورٹن کی رائے میں وکی لیکس کی طرف سے سامنے لائی جانے والی دستاویزات بڑے ہی مثالی انداز میں یہ واضح کرتی ہیں کہ امریکہ اپنے سفیروں کی مدد سے کس قدر غیر معمولی دباؤ ڈالتا ہے:’’یہاں ایک غیر ملکی طاقت غیر معمولی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور اِس دباؤ کا سفارتکاری کے ساتھ سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

میڈرڈ حکومت چونکہ واشنگٹن حکومت کی ناراضگی کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی، اِس لئے اُس نے گوانتانامو کے تفتیشی طریقوں کی تحقیقات کے لئے مقرر کردہ وکلائے استغاثہ اور ججوں کی پوری فہرست امریکی سفیر کے حوالے کر دی تھی۔ امریکہ کی نظر میں اِن میں سے ایک جج بالتاسار گارزوں ’امریکہ مخالف‘ تھا، چنانچہ امریکہ کے اصرار پر میڈرڈ حکومت نے یہ وعدہ بھی کر لیا کہ اِس جج سے اِس معاملے میں کام کرنے کے اختیارات واپَس لے لئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ اِسی جج نے برسوں پہلے چلی کے آمر آؤگستو پنوشے کو برطانیہ میں گرفتار کروایا تھا۔

رپورٹ: رالف زِینا (واشنگٹن) / امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس