1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وکٹور اوربان کو امريکی ارب پتی سے مسئلہ کيا ہے؟

ہنگری کے وزير اعظم وکٹور اوربان نے دارالحکومت بوداپسٹ ميں قائم نجی سينٹرل يورپين يونيورسٹی کے خلاف اپنے متنازعہ اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے امريکا ميں قيام پذير ہنگيرين نژاد ارب پتی جارج سور وس پر دوبارہ تنقيد کی ہے۔

وکٹور اوربان کا کہنا ہے کہ سارا کا سارا معاملہ جارج سوروس ہی کے گرد گھوم رہا ہے، عوام کی نظروں سے بچ کر ان کے ہنگری ميں موجود ادارے غير قانونی ہجرت کی حمايت يا مدد کر رہے ہيں۔ ہنگری کے وزير اعظم نے يہ بيان ايک مقامی اخبار کو ديے اپنے انٹرويو ميں ديا، جو ہفتے کے روز شائع ہوا۔ اوربان نے سوروش پر الزام عائد کيا ہے کہ ان کے متعدد شہری سرگرميوں سے منسلک ادارے دراصل ديگر مقاصد سر انجام دے رہے ہيں۔ علاوہ ازيں امريکا ميں قيام پذير ہنگيرين نژاد ارب پتی جارج سوروس ہنگری ميں اپنے ترجمان، اپنے ذرائع ابلاغ، اپنے حمايتی اور اپنی ہی ايک يونيورسٹی کی مدد سے ايک باقاعدہ نيٹ ورک چلا رہے ہيں۔ وزير اعظم وکٹور اوربان کے بقول ان کے ملک کو اپنا دفاع کرنا ہو گا اور اس کے خلاف لڑنا ہو گا۔

ہنگری ميں اسی ماہ کے آغاز پر ايک ايسا قانون منظور ہوا ہے، جو بوداپسٹ کی نجی سينٹرل يورپين يونيورسٹی کی بندش کا سبب بن سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سوروس اس يونيورسٹی کے بانی ہيں۔ اس حاليہ پيش رفت کے سبب بوداپسٹ حکومت نہ صرف بين الاقوامی سطح پر تنقيد کی زد ميں ہے بلکہ ملک ميں بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پارليمان ميں ايک ايسے بل پر بھی عنقريب بحث ہو گی، جس ميں بيرونی مالی امداد سے چلنے والے شہری ادارے متاثر ہو سکتے ہيں۔