1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ويت نام ميں شديد بارشوں اور سيلاب کے سبب جانی و مالی نقصان

ويت نام کے شمالی اور وسطی حصوں ميں شديد بارشوں اور سيلابی ريلوں کے نتيجے ميں قريب تين درجن افراد ہلاک اور ديگر کئی لاپتہ ہو گئے ہيں۔ اس ملک ميں پچھلے سال بھی ايسی قدرتی آفات کے سبب دو سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دارالحکومت ہنوئی سے جمعرات بارہ اکتوبر کے روز موصولہ رپورٹوں کے مطابق ويت نام ميں شديد بارشوں اور سيلابی ريلوں کے سبب اب تک سينتيس افراد ہلاک ہو چکے ہيں جبکہ چاليس تاحال لاپتہ ہيں اور اکيس افراد زخمی حالت ميں ہيں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے ملکی ادارے کے مطابق کسی ايک واقعے ميں بارشوں اور سيلاب کے سبب ہلاک ہونے والوں کی يہ ملکی تاريخ ميں کافی بڑی تعداد ہے۔ ويت نام ميں بارشوں اور سيلابوں کا يہ تازہ سلسلہ رواں ہفتے پير سے جاری ہے۔

طويل ساحلی پٹی کی وجہ سے ويت نام اکثر و بيشتر طوفانوں اور سيلابی ريلوں کی زد ميں رہتا ہے۔ پچھلے سال بھی بارشوں اور سيلاب کے سبب اس ملک ميں دو سے زائد افراد کی ہلاکت واقع ہوئی تھی۔ پھر ابھی پچھلے ماہ ہی ايک سمندری طوفان نے اس ملک کے وسطی حصے ميں تباہی مچا دی تھی، جس سبب متعدد علاقوں ميں بجلی کی ترسيل منقطع ہو گئی تھی۔

شمالی ویت نام ميں بالائی فضا کے دباؤ میں شدید کمی پیدا ہوئی اور اس کے نتيجے ميں تیز رفتار طوفانی جھکڑ چلے اور موسلا دھار بارشیں ہوئيں۔ اس ٹراپیکل ڈیپریشن سے ويت نام کے کُل چھ صوبے متاثر ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوآ بِنہ نامی صوبے ہوئی ہیں۔ اس صوبے میں گیارہ افراد ہلاک اور اکیس لاپتہ ہیں۔ ویت نام ميں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے مطابق ہوآ بِنہ میں لاپتہ اور ہلاک ہونے والے افراد اس وقت سوئے ہوئے تھے، جب اُن پر مٹی کے تودے گر پڑے۔ امدادی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

تازہ قدرتی آفت کے سبب ويت نام ميں تقريباً سترہ ہزار افراد کو محفوظ مقامات منتقل کر ديا گيا ہے اس دوران کم از کم دو سو مکانات بھی تباہ ہو گئے ہيں جبکہ تقريباً اٹھارہ ہزار گھروں کو نقصانات پہنچے ہيں۔ چاول کی کاشت کے ليے زير استعمال آٹھ ہزار ہيکٹر زمين متاثر ہوئی ہے جبکہ چاليس ہزار جانور يا تو مارے گئے يا سيلابی ريلے ميں بہ کر چلے گئے۔

DW.COM