1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

وولف گانگ واگنر : کلاسیکی روایت کے امین

21 اور 22مارچ کی درميانی شب مشہور موسيقار رچرڈ واگنر کے پوتے وولف گانگ واگنر انتقال کرگئے۔ اُن کی عمر 90 برس کی تھی۔ وہ نصف صدی تک بائے روئتھ کے موسیقی ميلوں کی نگرانی کے فرائض انجام ديتے رہے۔

default

وولف گانگ واگنر اپنے قدیمی تھیئٹر کے سامنے: فائل فوٹو

میلوں کے لئے نيک فال

ہدايتکار پيٹر شنائڈر نے وولف گانگ واگنر کو بائے روئتھ کے رچرڈ واگنر ميلے کی دوسری عالمی جنگ کے بعد کی تاريخ کے لئے ايک نيک فال اور خوش نصيبی قرار ديا ہے۔ وہ اس ميلے کے ايسے ڈائرکٹر تھے جو مشقوں سے لے کر کھانوں تک سارے انتظام کی ديکھ بھال کرتے تھے۔ شنائڈر نے کہا کہ اُنہوں نے واگنر کو ديکھا تھا کہ وہ باورچی خانے ميں ديگچوں ميں جھانک کر جائزہ ليا کرتے تھے کی سب کچھ صحيح ہورہا ہے یا نہیں۔ حقيقت يہ ہے کہ مشہور موسيقار رچرڈ واگنر کے آخری پوتے کے دور ميں بائے روئتھ کا ميلہ، نجی آرٹ کی نمائش سے ترقی کرکے ايک کامياب ثقافتی ادارہ بن گيا۔

ماضی کا بوجھھ

تاہم يہاں تک پہنچنے کا راستہ خاصا طويل تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد وولف گانگ واگنر نے موٹر سائيکل پر پورے جرمنی کا دورہ کيا تاکہ بائے روئتھر ميلے کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے معاون اور سرپرست مل سکيں۔ يہ آسان کام نہيں تھا۔ وولف گانگ واگنر نے کہا کہ کيونکہ اُن کی والدہ کی ہٹلر سے دوستی تھی اس لئے اُنہيں سخت تنقيد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس لئے غير ملکی سرپرستوں کے بغير اس ميں کاميابی نہيں ہو سکی تھی۔اس کے نتيجے ميں 30 جولائی 1951 کو ہی کو ’پارسی فال‘ نامی ڈرامہ اسٹيج پر پيش کيا جا سکا۔

سن 1951 سے لے کر سن 2008 تک وولف گانگ واگنر بائے روئتھ کے ميلے اور تھيٹر کے ڈائرکٹر رہے۔ اس ميں اُن کے بھائی ويلانڈ نے بھی اُن کا ہاتھ بٹايا۔ سن1996 ميں ويلانڈ کے انتقال کے بعد سے وولف گانگ اکيلے ہی سارا کام سنبھالتے رہے۔ ہدايتکار کی حيثيت سے وولف گانگ واگنر کی شخصيت ہميشہ ہی متنازعہ رہی۔ وہ قدامت پسند سمجھے جاتے تھے اور اُن کے بھائی کی قدآور شخصيت اُن پر چھائی رہی۔

Bildergalerie Bayreuth: 05 Wolfgang und Katharina Wagner

وولف گانگ واگنر اور اُن کی بیٹی کاتھرینا: فائل فوٹو

تاہم اُن کی زبردست ذاتی کارکردگی قابل احترام ہے۔ اُنہوں نے بلا شبہ فنی شاہکار تخليق کئے۔ اُنہوں نے معروف ہدايتکاروں، گلو کاروں اورموسيقاروں کو اپنے پاس جمع کيا۔اور اُنہوں نے بائے روئتھ کو آرٹ کی ايک اہم ورکشاپ بناديا۔

بائے روئتھھ ورکشاپ پر تنقيد

تاہم يہ سب ہی کو پسند نہيں آيا۔ مشہور واگنر گلو کارہ برگٹ نلسن نے اپنی موت سے کچھ قبل کہا: اب اسے بائے روئتھ ورکشاپ کا نام ديا جارہا ہے۔ اب تو ہر مبتدی بائے روئتھ ميں گا سکتا ہے۔ اگرچہ وولف گانگ واگنر نے ورکشاپ کے نظريے کے ذريع بائے روئتھ ميلے کے فنی خاتمے کا بيج بويا تھا، ليکن يہ بھی صحيح ہے کہ اُنہوں نے رچرڈ واگنر ٹرسٹ کے قيام کے لئے بہت کام کيا اور اُنہوں نے جنگ کے ہاتھوں تباہ ہوجانے والے ’وہانفريڈ ہاؤس‘ کی تعمير نو پر بھی بھر پور توجہ دی جو آج رچرڈ واگنر ميوزيم ہے۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے ايک خستہ حال عارضی عمارت کو ايک جديد ترين تيکنيک سے آراستہ تھيٹر گھر ميں تبديل کرنے کے لئے بھی ان تھک محنت کی۔

مارچ سن 1999 ميں وولف گانگ واگنر نے اپنے جانشين کے انتخاب کا عمل شروع کرنے کو منظور کرليا۔ اس کے بعد سے جھگڑے اور خاندانی مخالفتوں کا زور رہا۔ خاندان ميں اُن کے ورثے پر جھگڑے ہونے لگے۔ اُن کی دوسری اہليہ اور دست راست گُدروُن کی، نومبر سن 2007 ميں اچانک موت کے ساتھ ايوا اور کاتھرينا واگنر کے، اُن کا جانشين بننے کا راستہ کھلا۔ بائے روتھ کے ميلے کی طرف سے بھی يکم ستمبر سن 2008 ميں جانشينی کے اس انتخاب کی منظوری دے دی گئی۔

NO FLASH - Wolfgang Wagner tot

وولف گانگ واگنر: فائل فوٹو

ايک نئے دور کا آغاز

اس کے بعد سے بائے روئتھ کی سبز پٹی پر ايک نیا دور شروع ہوچکا ہے۔ دونوں سوتيلی بہنوں ايوا اورکاتھرينا کو میلے کے ڈھانچے اور مالی حالات ميں مشکل تبديليوں کا سامنا ہے۔ وہ فن اور آرٹ کے لحاظ سے ايک تازہ فضا کی خواہشمند ہيں اور تھيٹر اور پروگراموں ميں عصری تقاضوں کی جھلک ديکھنا چاہتی ہيں۔ وہ مکالمت کے نئے ميڈيا کی تلاش ميں ہیں اور بائے روئتھ کے ميلے کو مقبول عام کرنے کے لئے کوشاں ہيں۔ تاہم نئے رجحان کا نتيجہ ابھی غير يقينی ہے۔

وولف گانگ واگنرنے، جو سن 2007 سے خرابیء صحت کے شکار تھے اور عوامی زندگی سے بڑی حد تک الگ ہوگئے تھے، اپنے آخری زمانے ميں ميلے کے معاملات ميں دخل دينا بالکل ختم کرديا تھا۔ اُنہوں نے پچھلے موسم گرما ميں اپنی 90 ويں سالگرہ گوشہء تنہائی ميں، صرف اپنے گھرانے کے ساتھ منائی تھی۔ سن 1951 کے بعد سے يہ پہلا موقع تھا کہ سالگرہ کے وقت وہ کيمروں کی چکا چوند ميں عوامی توجہ کا مرکز نہيں تھے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: کشور مصطفیٰ