1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ومبلڈن: ہم کسی سے کم نہیں، اعصام الحق

ستاون برس پہلے ومبلڈن ہی کے ذریعے خواجہ سعید حئی نے پاکستان کو گرینڈ سلیم ٹینس میں متعارف کرایا تھا اور اب اعصام الحق درجہ بندی کے لحاظ سے آل انگلینڈ ٹینس کلب میں قدم رکھنے والے پہلے پاکستانی ہوں گے۔

default

اعصام نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہےان کی وجہ سےپاکستان کا نام ومبلڈن کی ٹاپ فور سیڈنگ میں شامل ہوا۔ ریڈیو ڈوئچے ویلے کو دیے گئے انٹرویو میں اعصام کا کہنا تھا، ’’پہلے مجھے کسی گرینڈ سلیم کے کوارٹر فائنل یا سیمی فائنل تک بھی پہنچنے کا یقین نہ ہوتا تھا مگراب میرے اندر ناکامی کا کوئی خوف باقی نہیں رہا۔ گز شتہ سال ومبلڈن کا کوارٹر فائنل ہار نے کے بعد اب پچھلی غلطیوں کا اعادہ نہ کرنے کی ٹھان لی ہے۔ مجھے اور روہن کو اپنی اپنی صلاحیتوں کے ساتھ ایک دوسرے پر بھی مکمل اعتماد ہے کہ ہم کسی سے کم نہیں اوریہ ٹائٹل جیت سکتے ہیں۔‘‘

U.S. Open Tennis Bopanna Aisam-Ul-Haq

اعصام کے مطابق ان کی روہن بھوپنا کے ساتھ اچھی ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے

اعصام کے مطابق ان کی روہن بھوپنا کے ساتھ اچھی ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے، ’’ہماری تیاری اچھی ہے۔ ہر چیز درست سمت میں جا رہی ہے۔ ہم نے گز شتہ ہفتے جرمنی میں گراس کورٹ پر ہی گیری ویبر اوپن جیتی ہے۔ ہماری رینکنگ دن بدن بہتر ہو رہی ہے اورگراس کورٹ کے وسیع تجربے کی وجہ سے بھی ہمیں دوسروں پر برتری حاصل رہے گی۔‘‘

U.S. Open Tennis Bopanna Aisam-Ul-Haq

اعصام الحق پر کامیابی کی دیوی گز شتہ اٹھارہ مہینوں میں کافی مہربان رہی ہے

1998سے ٹینس کی دنیا میں پیشہ ور کھلاڑی کی حیثیت سے موجود اعصام الحق پر کامیابی کی دیوی گز شتہ اٹھارہ مہینوں میں کافی مہربان رہی ہے۔ اس عرصے میں اکتیس سالہ اعصام نے یو ایس اوپن کے دو ڈبلز فائنلز کھیلنے کے علاوہ آسٹریلین اوپن کے تیسرے جبکہ فرنچ اوپن اور ومبلڈن2010 کے کوارٹر فائنل مرحلے تک رسائی کا بھی اعزاز حاصل کیا۔ اعصام الحق نے روہن بھوپنا کے ساتھ گز شتہ ہفتے جرمنی میں گیری ویبراوپن جیت کر اے ٹی پی ورلڈ ٹور میں اپنے کیرئر کی دوسری بڑی کامیابی حاصل کی ۔

اعصام کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ وہ اب پاکستان کو پہلا گرینڈ سلیم ٹائٹل جتوا کر ملکی ٹینس کی تاریخ میں نیا باب رقم کریں اور اس کے لیے ومبلڈن سے بہتر کوئی دوسری جگہ نہیں ہو سکتی، ’’میری تمنا ہے کہ انڈو وپاک ایکسپریس ومبلڈن میں کامیاب ہو‘‘۔2011ء کے تیسرے اور سب سے معتبر گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ ومبلڈن میں بھارت کی عالمی شہرت یافتہ جوڑی لائنڈر پیس اور مییش بھوپتی بھی نمبر تین سیڈ کی حیثیت سے شریک ہیں مگر اعصام الحق اورروہن بھوپنا کو یو ایس اوپن کے فائنل سے لیکر رولنڈ گیروس تک ہر بار عالمی نمبرایک امریکی جوڑی برائن برادران کے ہاتھوں ہی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس بارے میں اعصام کہتے ہیں کہ برائن برادرز بلا شبہ دنیا کی سب سے اچھی ڈبلز ٹیم ہے مگرومبلڈن میں وہ دوسرے حریفوں کوبھی نظرانداز نہیں کرسکتے کیونکہ دنیا کے اس سب سے بڑے ٹورنامنٹ میں ہر کوئی مکمل تیاری کے ساتھ آتا ہے، ’’ہم کسی میچ کو آسان نہیں لیں گے تاہم اگر ہمارا سامنا پھر سے باب برائن اور مائیک برائن سے ہوا تو امریکی جوڑی کو ہرانے کی پوری کوشش کریں گے‘‘۔

ومبلڈن 2011 ء کے ڈراز کے مطابق اعصام اور روہن ٹورنامنٹ میں کل اپنے پہلے میچ میں کولمبین جوڑی جون کیبل اور رابرٹ فرح کے مقابل ہوں گے جبکہ سیمی فائنل میں ان کا مقابلہ امریکی جڑواں بھائیوں سے ہی متوقع ہے۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM