1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ومبلڈن کا تاریخ ساز فائنل : فیڈرر چیمپئن

لندن میں ٹینس ٹورنامنٹ ومبلڈن ختم ہو گیا ہے۔ مردوں کےفائنل میچ میں راجر فیڈرر اور اینڈی راڈِک نے شاندار کھیل کا مظاہرہ پیش کیا۔ میچ میں کامیابی راجر فیڈرر کے حصے میں آئی۔

default

راجر فیڈرر کامیابی کے بعد

برطانوی شہر لندن کے تاریخی کورٹ ومبلڈن میں سال رواں کے تیسرے گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ کا انتہائی یادگاری انداز میں خاتمہ ہوا ہے۔ پانچ جولائی، اتوار کی سہ پہر کو کھیلا گیا ٹورنامنٹ کا فائنل میچ میں اپنے ساتھ کئی ریکارڈ لے کر آیا۔

یہ فائنل میچ سوئٹزر لینڈ کے عالمی نمبر دو راجر فیڈرر اور امریکہ کے عالمی نمبر چھ اینڈی راڈِک کے درمیان کھیلا گیا تھا۔ زور دار مقابلے کے بعد راجر فیڈرر میچ جیتنے میں کامیاب رہے۔

Tennisspieler Roger Federer in Hamburg

راجر فیڈرر کھیل کے دوران

فتح کے بعد راجر فیڈرر ٹینس تاریخ کے سب سے بڑے کھلاڑی اور بعض ماہرین و ناقدین کے نزدیک عظیم ترین کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اِس کی وجہ اُن کی پندرہ گرینڈسلیم ٹورنامنٹ میں کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

ومبلڈن کے فائنل میچ میں اینڈی راڈِک اور فیڈرر کے درمیان میچ ایک طویل اور شاندار میچ تھا، جس میں راڈِک نے فیڈرر کو جیتنے میں کوئی آسانی فراہم نہیں کی۔ دونوں کھلاڑیوں نے ایک ایک پوائنٹ پر مقابلہ کیا۔ اِس میچ کا آخری سیٹ ومبلڈن کے علاوہ ٹینس تاریخ کا بھی سب سے طویل سیٹ تھا۔

راجر فیڈرر نے چھٹی بار ومبلڈن میں فتح حاصل کی۔ اینڈی راڈِک تین بار ومبلڈن کے فائنل میں پہنچے اور تینوں بار اُن کا مقابلہ فیڈرر سے ہوا اور تینوں میں وہ ہارے۔ فیڈرر نے میچ کے بعد اپنی جیت کو ناقابلِ یقین قرار دیا۔ فیڈرر کے مطابق میچ کے دوران اینڈی راڈِک کا کھیل انتہائی اعلیٰ تھا اور وہ جیت کے لئے بے چین لگ رہے تھے۔ فیڈرر نے امریکی کھلاڑی کو انتہائی شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

Andy Roddick gegen Rainer Schuettler Tennis Australian Open

اینڈی راڈِک

ومبلڈن میں کامیابی کے بعد راجر فیڈرر ایک بار پھر عالمی نمبر ایک بن گئے ہیں۔ عالمی نمبر ایک کی پوزیشن اُن سے ہسپانوی کھلاڑی رافاعیل ندال نے گزشتہ برس چھینی تھی۔ وہ چوٹ کے باعث فی الحال کھیل کی دنیا سے باہر ہیں۔

ومبلڈن میں اتوار کا فائنل دیکھنے امریکی لیجنڈری کھلاڑی پیٹ سیمپراس بھی موجود تھے۔ وہ سن دو ہزار دو کے بعد پہلی بار ومبلڈن کورٹ میں پہنچے۔ اِس بار وہ کھلاڑی کے طور پر نہیں بلکہ بطورِ تماشائی پہنچے تھے۔ پیٹ سیمپراس نے چودہ گرینڈ سلیم ٹائیٹل جیتنے کا ریکارڈ سن دو ہزار میں قائم کیا تھا۔ اُن کے ریکارڈ کو بہتر بنانے میں نو سال کا عرصہ لگا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ سن دو ہزار نو میں راجر فیڈرر کے قائم کردہ ریکارڈ تک کون پہنچے گا اور مزید کتنے سال لگیں گے۔

Pete Sampras

امریکی لیجنڈری کھلاڑی پیٹ سیمپراس

راجرفیڈرر نے اب تک چھ بار ومبلڈن، پانچ مرتبہ یُو ایس اوپن، ایک مرتبہ فرنچ اوپن اور تین مرتبہ آسٹریلین اوپن میں کامیابی حاصل کی ہے۔

راجر فیڈرر اور اینڈی راڈِک کا فائنل میچ دیکھنے ومبلڈن کے مرکزی کورٹ میں پیٹ سیمپراس کے علاوہ ماضی کے عظیم کھلاڑیوں میں راڈ لے ور اور بِژورن بورگ بھی موجود تھے۔ ماضی کے یہ دونوں سابقہ عظیم کھلاڑی گیارہ گیارہ گرینڈ سلیم ٹورنامنٹس کے فاتح تھے۔

ومبلڈن کے اتوار کے فائنل میچ میں راجر فیڈرر نے پینتالیس مرتبہ پہلی سروس پر پوائنٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ میچ کے دوران وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں کھلاڑی مزید پھُرتیلے اور جاندار دکھائی دے رہے تھے۔ فائنل میچ چار گھنٹے اور سترہ منٹ تک جاری رہا۔

دلچسپ امریہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے راجر ومبلڈن کے فائنل میں پہنچ رہے ہیں اور تینوں میں اُن کو طویل میچوں کا سامنا رہا ہے۔ تینوں بار پانچ سیٹ کے میچ کھیلے گئے، سن دوہزار سات میں وہ کامیاب رہے، گزشتہ سال اُن کو رافاعیل ندال کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہوا اور اِس سال وہ ایک مرتبہ پھر کامیاب رہے۔

میچ کے بعد پیٹ سیمپراس کا کہنا تھا کہ آج کی کامیابی کے بعد ٹینس کھیل میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے کہ اِس کھیل کا کونسا عظیم کھلاڑی ہے۔ رافاعیل ندال کو ابھی بہت کچھ ثابت کرنا ہے، ماضی میں راڈ لے ور کا نام انتہائی معتبر ہے۔ سیمپراس کا مزید کہنا ہے کہ ندال کے ہاتھوں فیڈرر کو کچھ میچوں میں شکست کا سامنا رہا ہے مگر عظمت اُن ہی کے حصہ میں لگتی ہے۔ اگلے سالوں میں فیڈرر کچھ اور گرینڈ سلیم جیت کر ایک مشکل ٹارگٹ قائم کر دیں گے۔ سویڈن کے سابقہ کھلاڑی بِژورن بورگ کے نزدیک رافاعیل ندال ٹینس دنیا کے عظیم ترین کھلاڑی بننے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔

راجر فیڈرر اور اینڈی راڈک کے درمیان اتوار کا فائنل میچ پانچ سیٹ پر مُحیط تھا۔ دو سیٹ میں کامیابی راڈِک کے حصے میں آئی۔ یہ پہلا اور چو تھا سیٹ تھے۔ فیڈرر نے دوسرے، تیسرے اور پانچویں سیٹ میں کامیابی حاصل کر کے ومبلڈن کو یادگار بنا دیا۔