1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

وقت جب سینکڑوں ایشیائی مہاجرین پھنس کر رہ گئے

آج منگل کے روز ایشیا میں انسانی اسمگلنگ کے تنازعے کا ایک برس مکمل ہو گیا ہے۔ تب سینکڑوں روہنگیا مہاجرین جنوب ایشیائی ممالک میں پناہ کی تلاش میں بے یار و مددگار سمندروں میں بھٹکنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

میانمار میں بدھ شدت پسندوں کے حملے سے پریشان اور قانونی تحفظ کی عدم دستیابی سے مجبور ہو کر سینکڑوں روہنگیا مسلمان پناہ کی تلاش میں کشتیوں پر سوار ہو کر دیگر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کا رخ کرنے لگے، تاہم ملائشیا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا نے انہیں اپنی سمندری حدود میں داخل تک نہ ہونے دیا۔ یہ پریشان حال مہاجرین کھلے سمندروں میں شکستہ کشتیوں پر زندگی اور موت کی کشمکش کے علاوہ بھوک اور پیاس کی سنگینی کا بھی شکار رہے، مگر کوئی ملک انہیں اپنانے کو تیار نہ ہوا۔ اس موقع پر یہ معاملہ ایک عالمی ردعمل کا باعث بنا اور اقوام متحدہ نے مقامی ممالک سے اپیل کی کہ ان مہاجرین کو پناہ دی جائے۔

سخت عالمی دباؤ میں انڈونیشیا اور ملائشیا نے روہنگیا مسلمانوں کی کشتیوں کو اپنے ساحلوں پر اترنے کی اجازت دی، تاہم انہیں یہ پناہ بس عارضی طور پر دی گئی تھی اور اب تک کوئی ایک بھی مہاجر انڈونیشیا یا ملائشیا میں بسایا نہیں گیا ہے۔

Bangladesch Rohingya Flüchtlingslager

روہنگیا نسل باشندوں کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پناہ گزین اب بھی مختلف عارضی مہاجر کیمپوں اور حراستی مراکز میں مقیم ہیں اور کچھ نے تو ان حالات سے تنگ آ کر اپنی زندگی کو جوکھوں میں ڈالا اور انسانوں کے اسمگلروں کے ذریعے کسی بہتر مقام کے لیے ایک بار پھر خستہ حال کشتیوں پر گہرے پانیوں کے سفر پر نکل پڑے۔

انڈونیشیا کے آچے صوبے میں ایک عارضی مہاجر بستی میں مقیم ایک پناہ گزین کا کہنا ہے، ’’میں نے انتظار کرنا سیکھ لیا ہے۔‘‘

اس 42 سالہ مہاجر کے مطابق وہ ایک ڈراؤنا خواب تھا جب کہ مختلف ممالک مہاجرین کو ایک دوسرے کی طرف بھیج رہے تھے اور سمندر کی موجوں سے ہر روز لڑنا پڑ رہا تھا، مگر کوئی بھی ملک پناہ دینے اور کشتیوں کو ساحلے سے لگنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھا۔

’’میں جب بھی وہ سب سوچتا ہوں تو میں اندر تک دکھ محسوس کرتا ہوں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے، جیسے شاید ہم انسان ہی نہیں۔‘‘

قریب ایک ہزار روہنگیا مسلمان میانمار میں بدھ شدت پسندوں کے حملوں کے تناظر میں فرار ہو کر انڈونیشیا کے ’اسلامی شرعی نظام‘ کے حامل صوبے آچے پہنچے تھے، مگر اب یہاں صرف تین سو افراد موجود ہیں، جب کہ باقی غالباﹰ بہتر زندگی کی تلاش میں ملائشیا منتقل ہو چکے ہیں۔