1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

وقار کا استعفیٰ، وجہ بیماری سے زیادہ اختلافات

گوکہ وقار یونس کے مستعفیٰ ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اور وقار دونوں نے اپنے مبینہ کشیدہ تعلقات کے تاثر کی نفی کرنے کی کوشش کی ہے مگر حقیقت اس سے کافی مختلف ہے۔

default

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس

بیماری کے ساتھ پی سی بی حکام کے ساتھ سنگین اختلافات پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس کے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کی وجہ بنے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک کھلاڑی نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ وقار یونس کچھ عرصے سے گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں اورحال ہی میں برصغیر میں ہونے والے عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھی ایک میچ کے دوران ان کے گردے کا درد ناقابل برداشت ہو گیا تھا۔ تاہم ان کے پاکستانی ٹیم کی اچانک کوچنگ چھوڑنے کا سبب چیئر مین پی سی بی اعجاز بٹ کا سرد مہری پر مبنی وہ رویہ تھا، جس کا وقار کو اس وقت سے سامنا تھا، جب سےان کے چیف سلیکٹر محسن خان اور سابق کپتان شاہد آفریدی کے ساتھ بعض کھلاڑیوں کی سلیکشن کے حوالے سے سنگین اختلافات منظر عام پر آئے تھے۔

پی سی بی نے حال ہی میں کوچ کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر ناصرف آل راؤنڈر عبدالرزاق کو سینٹرل کنٹریکٹ میں جگہ دی بلکہ ایک سابق بیٹسمین اعجاز احمد کو پاکستانی ٹیم کا اسسٹنٹ کوچ مقرر کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ان دونوں فیصلوں نے وقارکواس قدردلبرداشتہ کر دیا تھا کہ وہ پاکستان کرکٹ سے کنارہ کش ہو گئے۔

Waqar Younis

بطور کوچ وقار یونس زمبابوے کا آخری دورہ کریں گے

یاد رہے کہ وقار ہمیشہ سے ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کی شمولیت کی طرفداری کرتے رہے ہیں۔ سابق کپتان راشد لطیف نے ریڈیو ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے وقار کی دستبرادی کو پاکستان کرکٹ کے بڑا نقصان قرار دیا۔ راشد لطیف کے مطابق کوچ پرگز شتہ ڈیڑھ سال میں کی گئی سرمایہ کاری اب ضائع ہو جائے گی کیونکہ وقار پر انہیں پورا اعتماد تھا۔

وہ ٹیم کو درست سمت میں لیکر جا رہے تھے۔ راشد لطیف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مستعفیٰ ہونے کی روایت نہیں ہے مگر غلط سسٹم کی وجہ سے ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ وقار یونس جیسے عظیم کھلاڑی اور اچھے انسان کو شکریہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ماضی میں ایسی ہی صورتحال کا شکار ہو کر مستعفیٰ ہوئے تھے۔

راشد لطیف نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں کوچز کی طرح شعیب ملک، یونس خان اور آفریدی کو کپتانی کے جوہر دکھانے کے بھی پورے مواقع نہیں ملے۔ ہمیں اپنا سسٹم تبدیل کرنا ہوگا اور سب کو ملک کے لیے سوچنا ہوگا۔

وقار یونس نے گز شتہ برس مئی میں ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان ٹیم کی کوچنگ سنبھالی تھی۔ ان کے دور میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے باوجود پاکستان نے نیوزی لینڈ کو نیوزی لینڈ میں ہرا کرنہ صرف گز شتہ پانچ برس میں اکلوتی ٹیسٹ سیریز جیتی بلکہ جنوبی افریقہ جیسی طاقتور ٹیم کے خلاف سیریز برابر کرنے اور آسٹریلیا کو پندرہ برس بعد ٹیسٹ میچ ہرانے کے علاوہ بارہ برس بعد ورلڈ کپ سیمی فائنل کھیلنے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔

اسی لیے پاکستانی ٹیم کے کپتان مصباح الحق وقار یونس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹیم ان کی کمی شدت سے محسوس کرےگی۔

Rahid Latif afghanische Cricket Mannschaft

سابق وکٹ کیپر راشد لطیف

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ اب بھی مصر ہےکہ وقار یونس محض طبی وجوہات کی بنا پر ٹیم سے الگ ہو رہے ہیں۔ پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو سبحان احمد نے وقار یونس کی بطور کوچ خدمات کو سراہا اور کہا ہے کہ ان کے استعفیٰ کی وجہ بورڈ کے ساتھ اختلافات نہیں ہیں ۔

پی سی بی کے موجودہ چیرمین اعجاز بٹ کے ڈھائی سالہ دور میں جیف لارسن اور انتخاب عالم کے بعد وقار یونس پاکستان ٹیم کی کوچنگ سے سبکدوش ہونے والے تیسرے شخص ہیں جبکہ اس عرصے چار چیف سلیکٹر، پانچ کپتان اور اتنے ہی مینجرز بھی تبدیل کیے جا چکے ہیں۔

راشد لطیف نے پی سی بی کی مینجمنٹ جوانوں کے سپرد کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مغربی دنیا نے چالیس سے پنیتالیس سال کے لوگوں کو اداروں کا سربراہ مقرر کرکے ترقی کی ہے جبکہ پی سی بی کے چیئر مین اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی ڈائریکٹر کی عمریں پچھتر برس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مینجمنٹ میں وسیم اکرم معین خان اور عامر سہیل جیسے کرکٹرز کی خدمات حاصل کرنی چاہییں، جنہوں نے پاکستان کرکٹ کی بے پناہ خدمت کی ہے۔

وقار یونس کے متلعق تو ہر ایک کو امید ہے کہ وہ جلد سڈنی پہنچ کر اپنا علاج کرا لیں گے مگر پاکستان کرکٹ کا سرطان ختم کرنے والا کوئی مسیحا فی الحال دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس