1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وفاق اور سندھ حکومت کے مابین تناؤ ایک ’سیاسی مسئلہ‘

پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ میں رینجرز کو انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت اختیارات تفویض کرنے کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت کے مابین تناؤ کو آئینی بحران کی بجائے سیاسی مسئلہ قرار دیا جار ہا ہے۔

اس ضمن میں بدھ کو پاکستانی ایوان بالا یا سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے احتجاجاﹰ ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ اس واک آؤٹ سے قبل پیپلز پارٹی کے نسبتاﹰ دھیمے مزاج کے حامل تصور کیے جانے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر کافی جذباتی نظر آئے۔ فرحت اللہ بابر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے پورس کے ہاتھیوں کی طرح سندھ پر حملہ کیا ہے اور یہ حملہ بھی راجہ پورس کے ہاتھیوں کی طرح ہی ناکام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں جاری آپریشن میں صوبائی حکومت کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ فرحت اللہ بابر کا کہناتھا کہ بدعنوانی کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کو اختیارات دینے کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر الیاس بلور کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت ہمیشہ صوبائی خود مختاری کی حامی رہی ہے اور اسی لیے آج وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی صوبائی معاملات میں مداخلت سے وفاق کی عملی صورت کمزور ہو گی اور ملک کو اس کا نقصان ہو گا۔

خیال رہے کہ سندھ حکومت نے گزشتہ روز وفاقی حکومت کو رینجرز کے سندھ میں اختیارات میں دو ماہ کی توسیع کی درخواست کی تھی اور ساتھ ہی ایک سمری بھی بھجوائی تھی، جس میں رینجرز کے اختیارات میں کمی کی سفارش کی گئی تھی۔ تاہم وفاقی وزیر داخلہ کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں سندھ حکومت کی سمری کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

اس پر سندھ حکومت کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا اور کراچی میں صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے بھیجی گئی سمری مسترد کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ وفاق کا بنایا ہوا قانون ہے اور کسی بھی صوبائی حکومت کو اس قانون میں تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

اس صورتحال میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں حکومتیں آئین اور قانون پر عمل کریں تو اس مسئلے کو آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔

Chaudhry Nisar Ali Khan

وفاقی وزیر داخلہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سندھ حکومت کی سمری کو مسترد کر دیا گیا

بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق جج طارق محمود کا کہنا ہے، ’’رینجرز کا سندھ میں قیام قانون کے مطابق ہے اور ان کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دیا گیا اختیار بھی قانونی ہے۔ تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ صرف ایک شخص کا ہے اور وہ ہے ڈاکٹر عاصم حسین۔ جب سے وہ گرفتار ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی کو رینجرز کے اختیارات پر اعتراض ہو گیا ہے کیونکہ اس سے پہلے یہی رینجرز ایم کیو ایم کے خلاف انہی اختیارات کے تحت کارروائی کر رہے تھے تو پیپلز پارٹی کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ مسئلہ آئین اور قانون کا نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ تو پھر اس کو سیاسی طور پر ہی حل کیا جائے، نہ کہ اس میں آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے الزامات دھرے جائیں۔‘‘

پاکستانی آئین کے مطابق اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کوئی آئینی یا قانونی تنازعہ پیدا ہو جائے تو اس کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔ تاہم اس معاملے میں ابھی تک کسی بھی فریق نے ملک کی اعلٰی ترین عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔

سپریم کورٹ کے ایک وکیل رائے احمد نواز کھرل کا کہنا ہے، ’’اگر یہ معاملہ عدالت میں آتا ہے تو عدالت اس پر اپنا فیصلہ تو دے گی لیکن میرےخیال میں اس معاملے پر فریقین کو بھی معلوم ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا۔ اس لیے وہ عدالت میں جانے کے بجائے اس معاملے کو سیاست کے میدان میں گھسیٹنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ سندھ کی صوبائی اسمبلی کی جانب سے رینجرز کے اختیارا ت میں کمی کی قرارداد کی منظوری بھی ایک ایسا اقدام تھا، جسے صرف سیاسی شعبدہ بازی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے رائے احمد نواز کھرل نے کہا، ’’پہلے قانون سازی کی جائے اور پھر قراردادوں کے ذریعے اس کی ساکھ خراب کی جائے، یہ کہاں کی دانش مندی ہے۔‘‘

DW.COM