1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وفاقی جمہوریہ جرمنی کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ

دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک وفاقی جمہوری ریاست کے طور پر جرمنی کا قیام 1949 میں 23 مئی کے روز عمل میں آیا تھا اور آج ہفتہ کے روز وفاقی جمہوریہ جرمنی کے ریاستی وجود کے ٹھیک 60 برس پورے ہو گئے ہیں۔

default

جرمنی کا قومی پرچم ، نقشہ اور قومی نشان شاہین

امریکی صدر ابراہام لنکن نے جمہوری نظام حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت میں عوام کی حکومت ہوتی ہے جو عوام ہی کے ذریعے بنتی ہے اور عوم ہی کے لئے ہوتی ہے۔ جمہوریت کی اسی تعریف کے مطابق وفاقی جمہوریہ جرمنی میں گذشتہ 60 برسوں سے عوام ہی کی حکومت ہے۔

اس نظام حکومت کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے فورا بعد کے دور کی تباہ حال اور شکست خوردہ جرمن ریاست کے مقابلے میں آج کا جرمنی بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی سیاسی اور اقتصادی طاقت ہے اور عالمی برادری میں اسے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

جرمنی کی کونراڈ آڈے ناؤر فاؤنڈیشن کے تحت ابھی حال ہی میں "جرمنی میں جمہوری افہام" کے عنوان سے پورے ملک میں ایک ایسا مطالعاتی جائزہ لیا گیا جس میں عام شہریوں سے یہ پوچھا گیا کہ وہ ایک وفاقی جمہوری ریاست کے طور پر جرمن تاریخ کے گذشتہ چھ عشروں کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں۔ اس مطالعے کے نتائج نے بہت سے ناقدین کو بھی حیران کردیا۔

Deutsche Flagge

برلن میں وفاقی پارلیمان کے عمارت اور اس کے سامنے لہرانے والا جرمنی کا قومی پرچم

جمہوری طرز حکومت پر اعتماد

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی پارٹی کرسچئن ڈیموکریٹک یونین سے قربت رکھنے والی کونراڈ آڈے ناؤر فاؤنڈیشن کے سربراہ بیرن ہارڈ فوگل کہتے ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی بحران کے باوجود جرمن باشندوں کا اپنے ملک میں جمہوری طرز حکومت پر اعتماد حیران کن حد تک زیادہ ہے۔

"نوے فیصد جرمن باشندوں کی رائے میں جرمنی کی ساٹھ سالہ وفاقی جمہوری تاریخ کامیابی کا سفر ثابت ہوئی ہے۔ دو تہائی جرمن باشندے اپنے وطن کے ایک وفاقی جمہوری ریاست ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ عام شہریوں میں سے 94 فیصد اس بات پر بہت مطمئن ہیں کہ وہ جرمن شہری ہیں اور وہ مستقل بنیادوں پر اپنے وطن ہی میں رہائش پذیر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ 73 فیصد جرمن باشندے یہ اعتراف کرتے ہیں کہ پریشان کن معاشی صور ت حال اور مالیاتی منڈیوں کے بحرانی حالات کے باوجود اس وقت بھی جرمنی میں منصفانہ سماجی نظام پایا جاتا ہے۔"

Bildergalerie Polen: Der lange Weg zur Aussöhnung Bild6

1950 میں مشرقی اور مغربی جرمن ریاستوں کے مابین طے پانے والے سرحدی امن معاہدے کے موقع پر لی گئی ایک تصویر

مساوات یا آزادی

جرمنی میں سماجی سطح پر ہونے والی بحث کا ایک موضوع اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ ماضی کی مشرقی جرمن ریاست کےمغربی حصے پر مشتمل وفاقی جمہوری ریاست کے ساتھ اتحاد کے بعد نئے مشرقی صوبوں کے عوام کیا سوچتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ اس وقت مشرقی صوبوں کے شہریوں میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ مساوات آزادی سے زیادہ اہم ہے۔ لیکن موجودہ جرمن ریاست کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ کی مناسبت سے مکمل کئے گئے مطالعے میں اس تاثر کی بھی نفی ہو جاتی ہے۔

جرمنی میں انتخابی عمل اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں تحقیق کرنے والی ایک اور فاؤنڈیشن کی کوآرڈینیٹر Viola Neu کہتی ہیں کہ مشرقی اور مغربی صوبوں میں عام شہری جمہوریت اور اس کے بنیادی خواص کے بارے میں تقریبا ایک ہی طرح کی سوچ کے حامل ہیں۔

Viola Neu کہتی ہیں کہ عام شہریوں کے لئے انتہائی اہم بات یہ ہے کہ انہیں برابر کے حقوق حاصل ہوں اور برابر کے مواقع۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہ ان کا وطن ایک آئینی ریاست ہو جہاں قانون کی بالادستی ہو، آزادی رائے کا بنیادی حق ایک مسلمہ حقیقت ہو اور ملکیت کے حق سمیت سماجی اور معاشی سطح پر انفرادی زندگی میں بھی ان کی آزادی محدود نہ ہو۔

Die Berliner Mauer

برلن میں مشرقی اور مغربی جرمنی کی باہمی سرحد کے قریب امریکی فوج کی چیک پوائنٹ چارلی نامی چوکی کی ایک تاریخی تصویر

"یہ وہ حقائق ہیں جن کی پورے جرمنی میں 1999 سے لے کر اب تک کئے جانے والے مسلسل تین جائزوں میں باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے۔ ان جائزوں میں یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ صرف بائیں بازو کی جماعت لیفٹ پارٹی کےحامی وہ واحد شہری گروپ ہیں جو جمہوریت اور ریاست کے بنیادی آئین کے حوالے سے واضح طور پر محتاط سوچ کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اس گروپ میں بھی بہت سے شہری ایسے ہیں جو وفاقی جرمنی کی 60 سالہ تاریخ کے ساتھ جذباتی وابستگی محسوس کرتے ہیں۔"

جمہوریت کے بارے میں انداز فکر

جرمنی میں ان دونوں غیر حکومتی تنظیموں کے جائزوں میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ عام شہریوں کو یہ یقین تو ہے کہ جرمنی کا جمہوری سیاسی نظام اچھا ہے مگر کبھی کبھی یہ نظام اتنے اچھے انداز میں کام نہیں کرتا جس کی عام شہری توقع کرتے ہیں۔

اس بارے میں برلن کی فری یونیورسٹی کے سیاسی تحقیق کے شعبے میں کام کرنے والے Otto-Suhr انسٹیٹیوٹ کے ایک ماہر Gero Neugebauer کہتے ہیں کہ جمہوریت کے بارے میں عام جرمن باشندوں کی سوچ کا ایک انداز تو یہ ہے کہ اس سے "مجھے کیا فائدہ ہوگا۔" دوسری طرف عام طور پر سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا جمہوریت کا کوئی متبادل بھی موجود ہے؟ جرمنی کی موجودہ آبادی میں عام شہریوں کی اوسط عمر کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی اکثریت کو نازی دور کے مظالم کا شاید زیادہ علم نہیں ہے۔ اس لئے ایسے شہریوں کی نظر میں جمہوریت وہی ہے جس میں وہ رہتے ہیں اور جسے وہ جانتے ہیں۔"

Symbolbild Verfassung Grundgesetz Deutschland

وفاقی جمہوریہ جرمنی کا بنیادی آئین کتابی شکل میں

جرمنی کے بنیادی آئین کے بھی ساٹھ سال

جمہوری نظام حکومت والی وفاقی جرمن ریاست کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ کے ساتھ ہی جرمنی میں بنیادی آئین کے نفاذ کے بھی ٹھیک چھ عشرے پورے ہوگئے ہیں۔ اس لئے کہ 1949 میں وجود میں آنے والی جرمن ریاست کا نظام چلانے کے لئے اسی آئین کو بنیاد بنایا گیا تھا اور جرمن ریاست آج بھی اسی آئین کی بنیاد پر کام کررہی ہے۔

جرمن باشندے اور ان کے منتخب کردہ پارلیمانی نمائندے ملک کے بنیادی آئین کو کتنی اہمیت دیتے ہیں، اس کا اندازہ اس بحث سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو ابھی حال ہی میں بنڈیس ٹاگ کہلانے والی وفاقی پارلیمان میں ہوئی۔ اس بارے میں ماحول پسندوں کی گرینز پارٹی کے وفاقی پارلیمانی حزب کی سربراہ Renate Künast کہتی ہیں: "کئی لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں اپنے وطن پر فخر ہے۔ میں یہ کہتی ہوں کہ ہمیں اس آئین پر فخر ہے۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اسی آئین کی وجہ سے ہم پر دنیا بھر میں رشک کیا جاتا ہے۔"

ماضی کی کامیابی، مستقبل میں ضمانت

ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے جرمن پارلیمان کے ایک رکن فلوریان ٹونکار کہتے ہیں: " وہ عناصر جو بار بار یہ کہتے ہیں کہ ان کے بقول بنیادی آئین میں ممکنہ طور پر پائی جانے والی خامیاں دور کی جانا چاہیئں، انہیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اس آئین میں کوئی خامی نہیں ہے اور ان کی طرف سے اسے ترامیم کا متقاضی قرار دیا جانا خود اس آئین کی اعلیٰ ترین حیثیت اور بالادستی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔"

جرمنی کے بنیادی آئین کے آج ہفتہ 23 مئی کے روز ٹھیک چھ عشرے تو پورے ہوگئے ہیں لیکن انتہائی متاثر کن بات یہ ہے کہ یہی آئینی دستاویز کسی بھی طرح کے حالات میں اپنے مکمل ہونے اور کسی بھی دور کے تقاضے پورے کرسکنے سے متعلق اب تک ہر امتحان میں کامیاب رہی ہے۔ اسی لئے بہت سے جرمن سیاستدان اور آئینی ماہرین اس منفرد آئینی دستاویز کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اگر "سوال اس آئین کے مستقبل کے بارے میں ہو تو جواب دیتے ہوئے ماضی پر بھی نظر ڈالنا چاہئے۔"

60 Jahre Staatsbesuche f. 60 Jahre BRD

گذشتہ ساٹھ برسوں کے دوران جرمنی کے سرکاری دورے کرنے والے غیر ملکی سربراہان میں سے چند انتہائی تاریخ ساز شخصیات

ریاستی تقسیم سے دوبارہ اتحاد تک

دوسری عالمی جنگ کے بعد مکمل تباہی کا نمونہ پیش کرنے والی شکست خوردہ جرمن ریاست کی تعمیر نو میں اتحادی ملکوں کا کردار انتہائی فیصلہ کن رہا تھا۔ پھر 1949 میں 23 مئی کے روز مغربی حصے کی امریکہ اور اس کے جنگی اتحادی ملکوں کے زیر قبضہ علاقوں پر مشتمل وفاقی جمہوریہ جرمنی کی خود مختار ریاست کا قیام عمل میں آیا تو اسی سال سات اکتوبر کے روز مشرقی برلن میں سوویت دستوں کے زیر قبضہ مشرقی علاقوں پر مشتمل جرمن ڈیموکریٹک ری پبلک کے نام سے ایک علیحدہ اشتراکی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد کے عرصے میں 1953 میں سابقہ مشرقی جرمنی میں برلن کے کارکنوں کی طرف سے شروع کی جانے والی ایک مزاحمتی تحریک کو بری طرح کچل دیا گیا۔

پھر مشرقی جرمنی سے مغرب کی طرف شہریوں کی نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا تو ساٹھ کی دہائی کے شروع میں دیوار برلن تعمیر کردی گئی جو عشروں تک قائم رہی اور جرمنی کی داخلی تقسیم کی علامت بن گئی۔ اکتوبر 1989 میں سابقہ مشرقی جرمنی میں وسیع تر عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تو عوام کے ارادوں کے سامنے یہ دیوار بھی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی۔

دیوار برلن کے خاتمے کے بعد دونوں جرمن ریاستوں کے دوبارہ اتحاد میں زیادہ دیر نہ لگی۔ جرمن اتحاد کے بعد سے اب تک مشرقی حصے کی تعمیر و ترقی کے لئے کھربوں مالیت کی رقوم خرچ کی جا چکی ہیں۔ گذشتہ قریب دو عشروں سے جرمنی یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، یورپ کی سب سے بڑی معیشت بھی اور بین الاقوامی سیاست میں اس کی اہمیت بھی کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔

DW.COM