1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا امریکہ کا دَورہ

وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل امریکہ کا دو روز کا دَورہ ختم کرنے کے بعد جمعے کی دوپہر واپس برلن پہنچ گئیں۔ جمعرات کی شام اپنے دورے کے اختتام پر میرکل نے واشنگٹن میں امریکی یہودی کونسل AJC کے قیام کی 100 وِیں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کیا۔ اِس تقریب میں امریکی صدر بُش اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھی موجود تھے۔ جرمن چانسلر کے دَورے کا ایک میزانیہ

جرمن چانسلر انگیلا میرکل امریکی یہودی کونسل کی تقریب سے خطاب کر رہی ہیں۔ ساتھ کوفی عنان بیٹھے ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل امریکی یہودی کونسل کی تقریب سے خطاب کر رہی ہیں۔ ساتھ کوفی عنان بیٹھے ہیں۔

بُدھ 3 مئی کے روز اپنے دو روز کے امریکی دَورے کے آغاز پر وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے واشنگٹن ایئر پورٹ سے سیدھے وائٹ ہاﺅس جا کر امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

ایک گھنٹے کی اِس ملاقات کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے دونوں رہنماﺅں نے کہا کہ اُن دونوں کے درمیان ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی دسترس میں آنے سے باز رکھنے پر اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے۔ میرکل نے یہ بھی کہا تھا کہ اُنہوں نے امریکہ پر ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے کے لئے زور دیا ہے اور وہ ایرانی تنازعے کے سفارتی حل کے حوالے سے خاصی پُر اُمید ہیں۔ اِسی موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ بُش جولائی کے وَسط میں جرمنی کے دَورے پر آئیں گے۔

جمعرات 4 مئی کے روز انگیلا میرکل مختصر دَورے پر نیویارک گئیں، جہاں اُنہوں نے جرمن اور امریکی کاروباری شخصیات کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ اِس موقع پر میرکل نے اپنی حکومت کی اقتصادی اصلاحات کی وضاحت کی اور امریکی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ جرمنی میں آ کر سرمایہ لگائیں۔

جمعرات ہی کی شام واپس واشنگٹن پہنچ کر جرمن چانسلر امریکی یہودی کونسل AJC کے قیام کی 100 وِیں سالگرہ کی تقریب میں شریک ہوئیں۔ جرمنی سے گئے ہوئے یہودیوں نے اِس تنظیم کی بنیاد سن 1906ء میں رکھی تھی۔ دریں اثناء اِس کے ارکان کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

اِس تقریب میں امریکی صدر بُش بھی شامل تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں جرمن چانسلر کی قائدانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ امریکی صدر نے جرمن چانسلر کو کھلے دِل کی مالک قرار دیتے ہوے کہا کہ وہ آزادی کی طاقت کو سمجھتی ہیں اور چیزوں کے بارے میں صحیح اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے نازی سوشلسٹوں کے دَور میں یہودیوں کے قتلِ عام کو جرمنوں کی خود اپنے ہی ہاتھوں تباہی قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا، یہی وجہ ہے کہ جرمنی اسرائیلی ریاست کی جانب اپنی خصوصی ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔

میرکل نے کہا کہ اسرائیل کے حقِ بقا اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ محفوظ سرحدوں کے اندر زندگی گذارنے کے سلسلے میں اِسرائیلی شہریوں کے حق کی فیصلہ کن حمایت کو تمام وفاقی جرمن حکومتوں کی خارجہ پالیسی میں ایک ناقابلِ تبدیل عنصر کی حیثیت حاصل رہی ہے۔

اِسی خطاب میں فلسطینیوں کو مخاطب کرتے ہوئے میرکل نے کہا کہ فلسطینی قوم کی ایک الگ وطن میں زندگی گذارنے کی جائز خواہش کو محض اسرائیل کے ساتھ قیامِ امن ہی کی صورت میں عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ اور اِسی لئے اُنہیں افسوس ہے کہ حماس کی قیادت میں قائم ہونےوالی فلسطینی حکومت بین الاقوامی برادری اور اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ راستہ اختیار کرنے سے بدستور گریز کر رہی ہے۔ میرکل نے کہا کہ جب تک حماس اسرائیل کے حقِ بقا کو تسلیم نہیں کرتی اُس کے ساتھ کوئی اشتراکِ عمل نہیں ہو گا۔

میرکل نے تقریب کے شرکاء کو یہ بھی بتایا کہ جرمنی میں اب پھر سے یہودی عبادت خانے اور یہودی تعلیمی ادارے قائم ہو رہے ہیں۔

حکومتی اراکین نے جرمن چانسلر کے دَورے کو انتہائی کامیاب جبکہ اپوزیشن نے مایوس کن قرار دیا ہے۔ بائیں بازو کی Linkspartei نامی جماعت کی پارلیمانی حزب کے قائد اَوسکر لافونتین نے اِس بات کو ہدفِ تنقید بنایا کہ جرمن خارجہ سیاست محض بُش انتظامیہ کی ناکام خارجہ پالیسی کی ہاں میں ہاں ملانےوالا عنصر بن کر رہ گئی ہے۔