1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وفاقی اور مظفر آباد حکومت کے مابین کشیدگی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت اور پاکستان کی وفاقی حکومت کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف تندوتیز بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی طرف سے اسلام آباد حکومت کے خلاف جو یوم سیاہ منایا گیا، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ یوم سیاہ ایک ایسے دن منایا گیا جب لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تین نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف کشمیریوں نے بھارتی حکومت کے خلاف یوم سیاہ منایا تھا۔

بظاہر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جسے مقامی طور پر آزاد کشمیر بھی کہا جاتا ہے میں قائم پیپلز پارٹی اور پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی حکومت کے درمیان تعلقات میں تناؤ گزشتہ ایک سال سے جاری تھا۔ تاہم یہ تناؤ اس وقت محاذ آرائی میں تبدیل ہو گیا جب گزشتہ جمعے کو آزاد کشمیر کے شہر نکیال میں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے حامیوں میں تصادم کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کا ایک چھیاسٹھ سالہ کارکن ہلاک ہو گیا۔

آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید نے اس کارکن کی ہلاکت کا ذمہ دار وفاقی حکومت کے وزراء کو قرار دیا۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا،’’وفاقی وزراء آزاد کشمیر کو فتح کرنے کی بجائے سری نگر اور نریندر مودی کو فتح کریں۔‘‘

Pakistan - Premierminster Nawaz Sharif

اسلام آباد حکومت کے خلاف جو یوم سیاہ منایا گیا، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی

دوسری جانب پاکستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے نکیال کے واقعے کے خلاف گزشتہ روز قومی اسمبلی سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ حزب اختلاف کے قائد خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر کے شہریوں پر مودی سرکار جیسے ظلم نہ کرے۔ انہوں نے کہا،’’ایک جانب ہم مودی کی مذمت کرتے ہیں کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم کر رہا ہے دوسری جانب وفاقی حکومت آزاد کشمیر میں ایسے آمرانہ اقدامات کر رہی ہے، جس پر کشمیری عوام ناراض ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ماحول خراب کر رہی ہے۔ تاہم وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید کو قرار دیا۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ معاملہ دو سیاسی جماعتوں کے درمیان ہے لیکن اس کے اثرات بین الاقوامی بھی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک اخبار "صدائے چنار" کے ایڈیٹر اعجاز احمد عباسی کا کہنا ہے کہ عام طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی اسی جماعت کی حکومت ہوتی ہے، جس کے پاس پاکستان کے وفاق میں اقتدار ہو۔ تاہم اس مرتبہ ایک تو حکومتیں سیاسی مخالف جماعتوں کی ہیں اور دوسرا وفاق سے کشمیر حکومت کو فنڈز کی فراہمی کا مسئلہ بھی رہا۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’’ویسے تو وفاقی حکومت کی جانب سے آزاد کشمیر کی حکومت کو فنڈز کی فراہمی کا مسئلہ رہتا ہی ہے اور اس پر کشمیر کی حکومتیں احتجاج بھی کرتی رہی ہیں لیکن اس مرتبہ یہ احتجاج جس سطح پر گیا اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بے شک آزاد کشمیر کی حکومت کہے کہ اس نے ن لیگ کے خلاف یوم سیاہ منایا لیکن اصل میں تو یہ یوم سیاہ پاکستان کی وفاقی حکومت کے خلاف ہی تھا۔ اعجاز عباسی کے مطابق اگر پاکستان کی مرکزی حکومت نے صورتحال میں بہتری کے لیے اقدمات نہ کیے تو بھارت اس صورتحال کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی طرح پاکستان کے زیر انظام کشمیر بھی ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ پاکستان کا اس علاقے پر آئینی طور پر بھی کوئی اختیار نہیں تاہم یہ حققیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اشیائے خورد ونوش کی ترسیل سے لے کر دفاع، تعمیر وترقی، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں کے لیے آزاد کشمیر حکومت کا مکمل انحصار پاکستان کی مرکزی حکومت پر ہوتا ہے۔