1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

وفادار فلپینی ملازمہ کو وراثت میں چھ ملین ڈالر ملے

سنگاپور میں ایک وفادار فلپینی ملازمہ کو اس کی خدمت کے بدلے میں اپنی مالکہ سے چھ ملین ڈالر وراثت میں ملے ہیں۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق یہ ملازمہ پچھلے بیس سالوں سے ایک ڈاکٹر کے ہاں ملازمت اختیار کئے ہوئی تھی۔

default

سنگاپور قدرتی حُسن سے مالامال ہونے کے ساتھ ساتھ اقتصادی اعتبار سے بھی ایک مضبوط ملک ہے

سنگاپور کے Straits Time نامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اس فلیپینی ملازمہ نے کہا کہ وہ سنگاپور کی سب سے خوش قسمت ملازمہ ہے۔ 47 سالہ اس ملازمہ نے جس کا فرضی نام کرسٹین ہے اور جو سنگل ہے، نے اپنا اصل نام ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس نے ایسا اس لئے کیا کہ فلپائن میں پیسے والے اکثر اغوا کئے جاتے ہیں ۔ جن سے پھر رقم کا مطالبہ کیا جاتا اور ہے ان میں سے اکثر اغوا کنندہ گان کے ہاتھوں قتل بھی ہوجاتے ہیں۔

Philippinische Arbeitsmigrantinnen Philippinen Naher Osten

فلپائن کی کام کرنے والی تارکین وطن خواتین کی ایک بڑی تعداد مشرق وسطیٰ میں بھی پائی جاتی ہے

کرسٹین کو اپنی مالکہ ڈاکٹر ’کویک کائے میو‘ سے جو غیر متوقع دولت ملی اُس میں نقد رقم اور ایک لگژری اپارٹمنٹ شامل ہے۔ ڈاکٹر ’کویک کائے میو‘ پچھلے سال 66 سال کی عمر میں فوت ہوگئ تھیں۔ کرسٹین پہلے ڈاکٹر ’کویک کائے میو‘ کی والدہ کا خیال بھی رکھتی تھی اور اس انسان دوست گھرانے کے ساتھ اُس کے بہت اچھے تعلقات تھے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس کے مالکان اس سے کوئی بات نہیں چپھاتے تھے اور اس پر بہت اعتبار کرتے تھے۔ مزید یہ کہ انھوں نے اُسے بتایا تھا کہ اُسے بھی ان کی جائیداد میں حصہ ملے گا۔ اس لئے جب اسے بتایا گیا کہ اسے اتنی دولت ملنے والی ہے تو اسے کوئی حیرت نہیں ہوئی ۔

کرسٹین کے بقول ڈاکٹر کویک کائے میو کے انتقال کے بعد وہ بے حد دلبرداشتہ تھی ، وہ وقت اس کے لئے بہت مشکل تھا، جسے وہ کبھی بھی نہیں بھول سکی گی۔ ڈاکٹر ’کویک کائے میو‘ سے جدائی کا تصور بھی اُس کے لئے کبھی محال تھا۔ اب اُس سے یہ تنہائی جھیلی نہیں جا رہی تھی۔ وہ کہتی ہے ’ ہم دونوں ہمیشہ ساتھ رہتے تھے وہ جہاں بھی جاتی تھی میں اس کے ساتھ جاتی تھی۔ میں ڈاکٹر ’کویک کائے میو‘ کے ساتھ جتنا رہی ہوں اُتنا وقت تو میں نے اپنی ماں کے ساتھ بھی نہیں گذارا۔

Jahresvorschau 2010

مدر ٹریسا نے1997 میں سنگاپور میں ایک یتم خانے کا دورہ کیا تھا

یہ ابھی تک کنواری ملازمہ جو اب مستقل طور پر سنگاپور میں رہنا چاہتی ہے کہتی ہے کہ ان کے ہاتھ لگنے والی دولت کی وجہ سے اس کے لائف سٹائل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اُس کے بقول’ میں نے اسی طرح جینے کا فیصلہ کیا ہے جیسا کہ میں پہلے جیتی تھی۔ مجھے امیر لوگوں کی طرح جینا پسند نہیں ہے‘۔ وہ مزید بتاتی ہے کہ سنگاپور میں برسر روزگار دوسری فلپینی ملازمائیں اس کے ساتھ پہلی ہی کی طرح پیش آتی ہیں ۔

سنگاپور میں تقریبا دو لاکھ کے قریب غیرملکوں سے کام کی تلاش میں آنے والی خواتین برسر روزگار ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد فلپائن سے تعلق رکھتی ہے۔

رپورٹ: برشنا صابر

ادارت: کشور مصطفٰی

DW.COM