1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

وطن کی خاطر لڑنے والے شامی نوجوان کی داعش میں شمولیت کی کہانی

اُس کی عمر مشکل سے 20 برس رہی ہو گی جب داعش کے عسکریت پسندوں نے تیل کی دولت سے مالا مال شام کے مشرقی علاقے میں اس کے آبائی شہر دیر الزور پر قبضہ کر لیا۔

اُس وقت محمد شامی فورسز کے خلاف دو برس قبل سے ہی مسلح جدوجہد میں شریک تھا۔ لہٰذا اُس کے لیے یہ ایک آسان فیصلہ تھا کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف اور اپنے آبائی علاقے کی حفاظت کی خاطر دولت اسلامیہ یا داعش میں شمولیت اختیار کر لے کیونکہ یہ گروپ بھی شامی فورسز کے خلاف لڑ رہا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ اپنی بات چیت میں اس شامی نوجوان یہ  شرط رکھی کہ اُس کی شناخت صرف اُس کے پہلے نام سے ظاہر کی جائے۔ اس کی وجہ ترک حکومت یا داعش کی طرف سے کسی ممکنہ خطرے یا صورتحال سے بچنے کے لیے احتیاط تھی۔

محمد کے مطابق وہ داعش کا ایک مکمل رُکن تو نہیں تھا تاہم اس نے اس گروپ کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے کافی محنت کی۔ اُس نے جہاد سے متعلق اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا۔ وضع قطع بھی داعش کے جنگجوؤں والی اپنا لی اور اپنی جیب میں دعاؤں کی کتاب بھی رکھا کرتا تھا۔

Syrien Kämpfer Islam Armee Jaish al-Islam Schatten Silhouette

محمد کی کہانی شامیوں کی اُس نسل کی نمائندگی کرتی ہے جو جنگ کے دوران لڑکپن سے نوجوانی کی حدود میں داخل ہوئے

محمد نے دیر الزور کی خاطر اپنی مسلح جدوجہد جاری رکھنے کے لیے وہ سب کچھ کیا جو اس سے بن پڑا۔ لیکن جب داعش نے اُسے دیر الزور کی بجائے ترکی کی سرحد کے قریب منبج کے علاقے میں کُردوں کے خلاف داعش کی لڑائی میں شرکت کے لیے بھیج دیا تو وہ وہاں سے فرار ہو کر تُرکی کے شہر غازی انتپ پہنچ گیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق محمد کی کہانی شامیوں کی اُس نسل کی نمائندگی کرتی ہے جو جنگ کے دوران لڑکپن سے نوجوانی کی حدود میں داخل ہوئے۔ 2011ء میں جب شام میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو نوجوانوں کی اکثریت کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ وہ کس کے ساتھ مل کر اور کس کے خلاف لڑیں گے۔

محمد کے مطابق چونکہ داعش بھی شروع میں ایسے دیگر مسلح گروپوں میں سے ایک تھا جو ایک مشترکہ دشمن یعنی شامی صدر بشارالاسد کے خلاف لڑ رہا تھا اور اس گروپ نے جب دیر الزور کا قبضہ حاصل کر لیا تو محمد نے اپنے وطن کی خاطر اپنی جدوجہد کو اس گروپ کے جھنڈے تلے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ اپنی بات چیت میں اُس نے یہ تسلیم کیا کہ وہ کبھی اس گروپ کے ساتھ مخلص نہیں تھا اور نہ ہی اس سے ہمدردی رکھتا تھا۔