1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

”وطن میں بے وطنی“

پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس عبدالرحمٰن اپنی آنکھوں میں انتظار لئے آنے والے راستے پر نظریں ٹکائے بیٹھا ہے۔ پانچ دن سے نہ اسے بھوک لگ رہی ہے، نہ وہ پیاسں محسوس کررہا ہے۔

default

اس کے خیمے کے آس پاس کھانا حاصل کرنے کی دوڑ میں گلا پھاڑ پھاڑ کر اپنی طرف متوجہ کرنے والی آوازیں گردش کررہی ہیں مگر وہ ان تمام فکروں سے آزاد اپنے بیٹوں کی آمد کا منتظر ہے جو لوئی سم میں سرکاری ایجنسیوں اور شدت پسندوں کے درمیان جاری شدید جھڑپوں میں لاپتہ ہوگئے۔ عبدلرحمٰن کو یقین ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن اپنے بیٹوں کو ضرور دیکھ پائے گا۔

لوئی سم اور بمبارتی کی زد میں علاقوں سے آنے والے ہر دوسرے شخص کی تقریباً یہی داستان ہے۔ کسی کو بہن کی تلاش ہے تو کوئی ماں ڈھونڑتا پھر رہا ہے، کسی کا بھائی کھو گیا ہے تو کوئی اپنی بیٹی سے جدا ہوگیا ہے۔

باجوڑ اور َاپر دیر کے علاقوں میں سیکیورٹی ایجنسیوں اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث سینکڑوں خاندان مختلف محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ کئی خاندان پشاور بھی پہنچ رہے ہیں۔ جہاں چارسدہ بس اسٹینڈ پر آج کل سینکڑوں کا ہجوم رہتا ہے۔کچھ خاندان یہیں سکونت اختیار کر رہے ہیں جبکہ کچھ کا رخ چارسدہ، مردان اور سرحد کے ان علاقوں کی جانب ہے جہاں امن و امان کی صورتحال دیگر صوبے سے نسبتاً بہتر ہے۔

سرکاری ایجنسیوں اورعسکریت پسندوں کے درمیان کئی ماہ سے جاری جھڑپوں میں شدت آنے پر اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ان قبائلیوں کے لئے چارسدہ بس اسٹینڈ پر ٹرانسپوٹرز یونین چندہ اکھٹا کر کے کھانے کا بندوبست بھی کر رہی ہے۔

ایک پاکستانی اخبار سے وابستہ صحافی انواراللہ خان کے مطابق ”پچھلے پانچ دنوں میں شدید بمباری اور فائرنگ سے لوئی سم، بندہ رشاکائی، صادق آباد، عنایت کیلی، ٹانگ خٹا، اور چارمنگ کے دیہات میں تقریباً20 افراد جاں بحق ہوئے، اب تک باجوڑ سے 12000 خاندان ہجرت کر چکے ہیں اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے“۔

ہجرت کرنے والے ایک قبائلی نے بتایا”ہم دو دن سے اس کیمپ میں رہ رہے ہیں،میری بیٹی اب بھی لوئی سم میں ہی ہے جہاں فوج کی شدید بمباری جاری ہے“

صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی دگر گوں ہے، سرحد کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین کے مطابق” لوگ صرف دیر اور باجوڑ کے علاقوں سے ہی نہیں بلکہ پشاور ، مردان اور چارسدہ سے بھی ہجرت کر کے ملک کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں“

ایک مذہبی سیاسی تنظیم ، جماعتِ اسلامی کے زیرِ انتظام الخدمت کیمپ کے مطابق اب تک 50ہزار مہاجرین کا اندراج کیا جا چکا ہے۔انہیں غذا، ادویات اور دوسری بنیادی ضرورتیں بہم پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سوات اور درہ سے ہجرت کر کے پشاور آنے والے کئی خاندان اب تک اپنے گھروں سے دور ہیں۔بہت سے لوگ اپنے بچوں اور بہت سے بچے اپنے والدین کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں،انہیںایک دوسرے کی کوئی خبر نہیں۔ کئی لوگ اس بمباری اور مسلسل جھڑپوں میں جاں بحق ہونے والے اپنے قریبی عزیزوں کو اپنے ہاتھوںدفن کر کے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ اوریہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

DW.COM