1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

وسیم اکرم کی گاڑی پر فائرنگ، ’قتل کی کوشش نہیں تھی‘

پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی گاڑی کے ساتھ ٹکر کے بعد دوسری گاڑی کے ڈرائیور نے اکرم کی کار پر فائرنگ کر دی لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ وسیم اکرم بدھ کے دن کراچی میں اپنی کار میں سوار ہو کر نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کی طرف رواں تھے کہ ان پر یہ حملہ کر دیا گیا۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد اس حملے کو ڈائیوارز کے مابین تلخی کا سبب قرار دیا ہے۔

وسیم اکرم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے ایک گاڑی نے ان کی گاڑٰی کو ٹکر ماری اور بعد ازاں اس گاڑی سے ایک شخص نے اتر کر ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق حملہ آور نے وسیم اکرم کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی تھی۔

مایہ ناز سابق ٹیسٹ کھلاڑی وسیم اکرم نے بتایا کہ وہ کراچی میں واقع نیشنل اسٹیڈم میں ایک تربیتی کیمپ کی کوچنگ کے لیے جا رہے تھے کہ یہ حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے ایک مقامی ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ایک گاڑی نے میری گاڑی کو ٹکر ماری۔ میں نے اس کار کے ڈرائیور کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے آگے بڑھ کر گاڑی پر فائرنگ کر دی۔‘‘

وسیم اکرم کے مطابق انہوں نے اس گاڑی کا نمبر نوٹ کر کے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ وسیم اکرم نے اس واقعے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’وہ یقینی طور پر ایک (پولیس ) اہل کار معلوم ہو رہا تھا۔ اگر وہ میرے ساتھ ایسا کر سکتا ہے تو وہ ایک عام شہری کے ساتھ کیا کرتا ہو گا۔‘‘ دنیائے کرکٹ میں وسیم اکرم کو بائیں بازو کا عظیم بولر قرار دیا جاتا تھا۔ پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں بھی انہیں ’کنگ آف سوئنگ‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

Pakistan Cricket

وسیم اکرم کراچی میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کے ایک تربیتی کیمپ میں کوچنگ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں

اعلیٰ پولیس اہل کار منیر شیخ نے کہا ہے کہ یہ نہ تو قاتلانہ حملہ تھا اور نہ ہی وسیم اکرم کو لوٹنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا، ’’یہ واقعہ صرف ڈرائیونگ کے دوران تلخی کے باعث رونما ہوا ہے۔ ہم نے سی سی ٹٰی وی کیمرے کی مدد سے گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا ہے اور جلد ہی گرفتاری عمل میں آ جائے گی۔‘‘

انچاس سالہ وسیم اکرم پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے 104 میچوں میں 414 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ انہوں نے 2003ء میں کرکٹ کے دنیا کو خیرباد کہا تھا اور آج کل وہ کراچی میں پاکستانی کرکٹ بورڈ کے ایک تربیتی کیمپ میں کوچنگ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔