1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

وسطی یورپ میں اتوار ستائیس مارچ کا دن تئیس گھنٹے کا ہو گا

جرمنی سمیت کئی وسطی یورپی ملکوں میں اتوار ستائیس مارچ سے موسم گرما کے معیاری وقت کا آغاز ہو رہا ہے، جس دوران تمام گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جائیں گی۔ اس طرح اتوار کا یہ دن چوبیس کی بجائے تئیس گھنٹے پر مشتمل ہو گا۔

BdT Deutschland Zeitzähler

جرمن شہر ماگڈےبُرگ کا ’ٹائم کاؤنٹر‘

جرمن دارالحکومت برلن سے ہفتہ 26 مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق وسطی یورپ میں موسم گرما اور موسم سرما کے معیاری وقت کے اصول پر عمل کرتے ہوئے سال میں دو مرتبہ گھڑیاں آگے یا پیچھے کرنے کی اپنی ایک منطق تو ہے لیکن یہ بات کئی لوگوں کو اس لیے ناپسند ہے کہ اس طرح ہر سال مارچ کے آخری اتوار کے روز انہیں سونے کے لیے ایک گھنٹہ کم ملتا ہے۔

ہفتہ 26 مارچ اور اتوار 27 مارچ کی درمیانی رات جب دو بجیں گے، تو تمام گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر کے تین بجا دیے جائیں گے۔ اس طرح وسطی یورپ میں موسم گرما کے معیاری وقت CEST کا آغاز ہو جائے گا۔ لیکن کئی ایسے یورپی باشندے، جو اس نظام کی افادیت کے قائل نہیں ہیں، کہتے ہیں کہ یہ سسٹم ہر سال بلاوجہ مارچ کے آخری اتوار اور اکتوبر کے آخری اتوار کے روز لوگوں کے لیے غیر واضح صورت حال اور پریشانی کا باعث بنتا ہے۔

ایسے یورپی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ بات بھلا کتنی ضروری ہے کہ مارچ کے آخری ویک اینڈ پر دن کے 24 گھنٹوں میں سے ایک ’چرا لیا جائے‘ اور پھر اکتوبر کے آخری ویک اینڈ پر ’واپس کر دیا جائے‘۔ اس شکایت کی بنیاد یہ ہے کہ مغربی یورپ میں ہر سال مارچ کا آخری اتوار 23 گھنٹے کا اور اکتوبر کا آخری اتوار 25 گھنٹے کا ہوتا ہے۔

جرمنی میں معیاری وقت کی تبدیلی کے اس نظام پر کامیاب عمل درآمد کی ذمے داری شہر براؤن شوائگ میں قائم ایک وفاقی ادارے PTB کے ماہرین کی ہے۔ یہ ادارہ فزیکل ٹیکنیکل اسٹینڈرڈز کا وفاقی ادارہ کہلاتا ہے۔

اس ادارے کی طرف سے رات کے ٹھیک دو بجے وفاقی صوبے ہیسے میں قائم ایک مرکز سے ایسا ریڈیو سگنل بھیجا جائے گا، جس کی مدد سے پورے ملک میں ریڈیو اسگنلز کے ذریعے کام کرنے والی کئی ملین چھوٹی بڑی گھڑیاں اور کلاک خود بخود ایک گھنٹہ آگے ہو جائیں گے۔ جو گھڑیاں ریڈیو سگنل وصول نہ کر سکتی ہوں، ان کے مالکان کو یہ کام خود اپنے ہاتھ سے کرنا پڑے گا۔

براؤن شوائگ میں پی ٹی بی کی ٹائم لیبارٹری کے سربراہ اور نیو کلیئر فزکس کے ماہر آندریاز باؤخ کے مطابق معیاری وقت کی تبدیلی کا یہ کام ایک خودکار طریقے سے اپنی تکمیل کو پہنچے گا، جس کے لیے ’تمام متعلقہ آلات کی کمپیوٹر پروگرامنگ ہمارے نظام کا حصہ ہے‘۔

Zeitumstellung Atomuhr Physikalisch-Technischen Bundesanstalt (PTB) in Braunschweig

نیوکلیئر فزکس کے ماہر آندریاز باؤخ اپنی ’ٹائم لیبارٹری‘ میں

جرمنی میں گرمیوں اور سردیوں میں معیاری وقت کی تبدیلی کا نظام 1980ء میں متعارف کرایا گیا تھا، جسے آج 36 برس ہو چکے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد دن کے وقت سورج کی روشنی والے اوقات میں ایک گھنٹے کا اضافہ تھا تاکہ توانائی کی بچت کی جا سکے۔

آندریاز باؤخ نے اس نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ موسم گرما میں ہر کسی کے لیے دن کی روشنی والے وقت میں ایک گھنٹے کا اضافہ ہو جائے گا۔

موسم گرما کا معیاری وقت اس سال اکتوبر کے آخری ویک اینڈ پر ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات تک جاری رہے گا اور تب رات کے تین بجے تمام گھڑیاں دوبارہ ایک گھنٹہ پیچھے کر دی جائیں گے۔ اس طرح اس سال 30 اکتوبر اتوار کا دن 25 گھنٹے کا ہو گا اور ہر کوئی ایک گھنٹہ زیادہ سو سکے گا۔

DW.COM