1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

وسطی چین میں سیلاب سے کئی ملین انسانوں کو خطرہ

وسطی چین میں سیلاب اور زمینی تودے گرنے سے اپریل سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ انسان ہلاک ہو چکے ہیں، سینکڑوں لاپتہ ہیں۔ شدید بارشوں کی وجہ سے ’تین گھاٹیوں والے ڈیم‘ میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے۔

default

چین میں سیلاب کا ایک منظر

آج کل چینی ذرائع ابلاغ پر سیلاب سے متعلقہ خبریں اور جائزے چھائے ہوئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ مسلسل اور شدید بارشوں کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔ بارشوں کے باعث کئی دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حدیں عبور کر گئی ہے اور کئی علاقے بڑے پیمانے پر سیلاب کی زَد میں آ گئے ہیں۔ دریائے یانگ زی میں بھی پانی کی سطح بتدریج بلند ہوتی جا رہی ہے۔

’تین گھاٹیوں والے ڈیم‘ میں، جہاں پانی سے چلنے والا دُنیا کا سب سے بڑا بجلی گھر ہے، پانی کی مقدار میں ستر ہزار کیوبک میٹر فی سیکنڈ کی ریکارڈ رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اِس ڈیم میں پانی کی مقدار میں اضافے کی یہ رفتار 1998ء کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے، جب شدید سیلاب کی زَد میں آ کر چار ہزار انسان ہلاک اور چودہ ملین بے گھر ہو گئے تھے۔ اگرچہ یہ ڈیم سیلاب کی اِسی طرح کی تباہ کاریوں کو روکنے کے لئے بنایا گیا تھا تاہم اِس کی حیثیت شروع ہی سے متنازعہ رہی ہے۔

China Flut Überschwemmungen Regen

وسطی چین میں ایک شخص سیلابی پانی میں سے راستہ بناتے ہوئے گزر رہا ہے

ماہرین اِس حوالے سے بے یقینی کا شکار تھے کہ آیا یہ ڈیم پانی کی قوت کو برداشت بھی کر سکے گا۔ ڈیموں کے ماہر فان سیاؤ، جن کا تعلق چینگ ڈو سے ہے، خبردار کرتے ہوئے بتاتے ہیں:’’اگر سیلاب 175 میٹر کی سطح سے اوپر چلا جائے تو ڈیم سے نشیب میں بسنے والے انسانوں کو وہاں سے نکالا جانا پڑے گا ورنہ وہ خطرے میں ہوں گے۔ یہ بہت خطرناک صورتِ حال ہو گی۔ بارش کا موسم ابھی ستمبر تک رہے گا اور ہمیں اِن حالات کا ابھی مزید سامنا کرنا پڑے گا۔ ڈیم میں سے پانی خارج کرنا ہو گا۔‘‘

اور یہ کام کیا بھی جا رہا ہے۔ چینی ٹیلی وژن پر دکھایا جا رہا ہے کہ کیسے نو بڑے بڑے سوراخوں سے زبردست دباؤ کے ساتھ پانی باہر نکالا جا رہا ہے۔ بظاہر اِس طرح کے اقدامات اُمید افزا ہیں لیکن دوسری جانب صرف صوبے اَنہوئی میں ہی سات ملین انسان سیلاب سے متاثر ہو رہے ہیں۔ وسطی چین کے سب سے بڑے شہر وُوہان سے ہزارہا افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

China Flut Taifun

چین میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ملک کے وسیع تر علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں

شنگھائی میں ایک سمپوزیم میں شریک جرمن ماہر سٹیفان راہمز ٹورف کا کہنا تھا:’’ایشیا ایک ایسا براعظم ہے، جہاں گزشتہ ایک سو برسوں کے دوران درجہء حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایشیا ہی میں خراب موسم کی وجہ سے آنے والی قدرتی آفات کی تعداد بھی زیادہ ہے اور چین اِس سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے۔ وسیع تر علاقے باقاعدگی کے ساتھ سیلاب کی زَد میں آتے رہتے ہیں۔ یہ سب وہ حالات ہیں، جو کم از کم جزوی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ میرے خیال میں ان خطرات میں ابھی مزید اضافہ ہو گا کیونکہ زیادہ گرم ہوا میں آبی بخارات بھی زیادہ ہوں گے، جس کا نتیجہ زیادہ بارش کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔‘‘

ماہرین کے مطابق ان حالات میں چین کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

رپورٹ: آسٹریڈ فرائی آئیزن (شنگھائی) / امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس