1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وسطی اٹلی میں شدید زلزلہ: کئی پہاڑی قصبے تباہ، 73 افراد ہلاک

اٹلی کے وسطی حصے میں بدھ چوبیس اگست کی صبح آنے والے ایک طاقت ور زلزلے کے نتیجے میں متعدد پہاڑی قصبے تباہ جبکہ کم از کم 73 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایک درجن سے زائد افراد صرف ایک قصبے پیسکارا ڈیل ٹرونٹو میں مارے گئے۔

اطالوی دارالحکومت روم سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ شہری دفاع کی ملکی تنظیم اب تک کم از کم 73 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی سو سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی اور اس کی وجہ سے کئی پہاڑی قصبے بری طرح تباہ ہو گئے۔ روئٹرز نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ کئی علاقوں میں بہت سے مقامی باشندے تباہ ہو جانے والے مکانات کے ملبے تلے دبے ہیں جبکہ بسیوں شہری تاحال لاپتہ ہیں۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ یہ زلزلہ آج علی الصبح اس وقت آیا جب متاثرہ علاقوں میں عام شہریوں کی اکثریت ابھی اپنے گھروں میں سو رہی تھی۔ اس زلزلے نے سب سے زیادہ تباہی ملکی دارالحکومت روم سے قریب 85 میل یا 140 کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک پہاڑی علاقے میں مچائی، جہاں دیکھتے ہی دیکھتے بہت طاقت ور جھٹکوں نے بہت سے گھروں کو زمین بوس کر دیا۔

اس زلزلے کے طاقت ور جھٹکے اس کے مرکز سے شمال اور جنوب میں واقع اطالوی شہروں بولونیا اور نیپلز تک میں بھی محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے مرکز سے دونوں طرف واقع ان شہروں کا فاصلہ 220 کلومیٹر سے بھی زیادہ بنتا ہے۔

زلزلے کے بعد اطالوی شہری دفاع کی طرف سے جاری کردہ تباہی کے تصویری مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ان جھٹکوں نے اماتریس کے قصبے کو بالکل زمین کے برابر کر دیا اور قریبی قصبے آکُومولی کی گلیاں بھی تباہ شدہ مکانات کے ملبے سے بھری پڑی ہیں۔

روئٹرز نے آکُومولی کے میئر سٹیفانو پیترُوچی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے، ’’دن چڑھنے سے قبل آنے والے اس زلزلے کے بعد ہم دن کی روشنی میں یہ دیکھنے کے قابل ہوئے کہ اس قدرتی آفت نے کتنی تباہی مچائی ہے۔ یہ منظر اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے، جتنا کہ ہم نے سوچا تھا۔ مکانات منہدم ہو چکے ہیں، لوگ ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں اور کہیں سے کوئی ایسی آواز نہیں آتی، جو زندگی کا پتہ دیتی ہو۔‘‘

دیگر رپورٹوں کے مطابق اس زلزلے نے جن علاقوں میں سب سے زیادہ تباہی مچائی، وہاں امدادی کارکن متاثرین کو ملبے کے نیچے سے نکالنے میں مصروف ہیں اور جہاں ابھی تک ایمرجنسی سروسز کے کارکن نہیں پہنچ سکے، وہاں مقامی باشندے اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹاتے ہوئے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

اس زلزلے کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اس علاقے میں یہ تباہی موسم گرما کے عروج پر اور سال کے ایسے ہفتوں میں آئی ہے، جب وہاں چھٹیاں گزارنے کے لیے آنے والے سیاحوں کی وجہ سے مقامی آبادی عارضی طور پر بہت بڑھ جاتی ہے۔ سال کے دیگر مہینوں میں وسطی اٹلی کے اس پہاڑی علاقے میں سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ جانے کی وجہ سے مقامی آبادی قدرے کم اور صرف اس علاقے کے رہائشیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

زلزلے سے تقریباﹰ پوری طرح تباہ ہو جانے والے قصبے اماتریس کے میئر سیرجیو پیروزی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’اس قصبے میں تباہی اتنی زیادہ ہوئی ہے کہ اماتریس کا تین چوتھائی حصہ بالکل ناپید ہو گیا ہے۔ اب ہمارا مقصد ایسے زیادہ سے زیادہ افراد کی جانیں بچانا ہے، جو ابھی تک ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔‘‘