1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

وزیر دفاع کیوں پی ٹی آئی کی خواتین کو نشانہ بناتے ہیں؟

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے چند روز قبل ایک ٹوئٹ پیغام میں بظاہر  پاکستان تحریک انصاف کی خواتین سیاسی رہنماؤں کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ ان کی اس ٹوئٹ پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ پاکستانی خواتین سیاسی رہنماؤں کو مردوں کی طرف سے نشانہ بنایا گیا ہو۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جب خواتین سیاسی رہنماؤں کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے تو کبھی انہیں اپنی بات کرنے کا موقع نہ دیا گیا۔ ٹی وی پروگراموں میں بھی ایسی مثالیں ہیں جب خواتین تجزیہ کاروں یا سیاسی رہنماؤں کے لیے نامناسب الفاظ کا استعمال کیا گیا ہو۔

پاکستان کے وزیر دفاع کے اس حالیہ بیان کے حوالے سے اسلام آباد میں مقیم صحافی سارہ حسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’جب تک آپ دل سے محسوس نہیں کرتے کہ خواتین آپ کے برابر ہیں اور وہ معاشرے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں تب تک آپ ان کی عزت نہیں کریں گے۔‘‘ سارہ کہتی ہیں کہ خواجہ آصف کا تعلق دائیں بازو کی جماعت سے ہے اور ان جماعتوں میں خواتین کو وہ مقام نہیں دیا گیا، جس کی وہ حق دار ہیں۔

پاکستانی معاشرے کے کئی معاملات پر اپنے تبصرے اور رائے رکھنے والے نوجوان تجزیہ کار جبران ناصر نے خواجہ آصف کے بیان کے حوالے سے کہا،’’خواجہ آصف کو اپنے عہدے کا خیال رکھنا چاہیے اور انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ ایسی باتیں نہ کریں، جو ایک وفاقی وزیر کو زیب نہیں دیتیں۔ ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ ‘‘ جبران ناصر کہتے ہیں،’’ ہمارے ہاں سیاسی تربیت نہیں ہے، ہمارے ہاں بدتمیزی عروج پر ہے۔ ان چیزوں کو ثقافتی طور پر اتنا برا نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستانی قیادت کو وزیر دفاع کے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے۔‘‘

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن فرزانہ باری نے اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’وزیر دفاع کی ٹوئٹ قدامت پسند ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر کوٹہ نظام نہ ہوتا تو یہ عورتوں کو بھی آگے نہ آنے دیتے۔ ان کا یہ بیان قابل مذمت ہے۔‘‘ فرزانہ کہتی ہیں کہ جو خواتین کوٹہ سسٹم کے باعث سیاست میں آئی ہیں، وہ بھی مردوں سے بہتر کام کر رہی ہیں لیکن تبدیلی اس لیے نہیں آرہی کیوں کہ بنیادی طور پر عورت کی عزت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا،’’ اگر عورت چھوٹی ہے یا موٹی ہے اور اگر آپ اس کی جسامت پر تنقید کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ عورت کو جنسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ آپ کو تنقید کرنی ہے تو ان کی سوچ، سیاست یا ان کے کام پر تنقید کریں۔‘‘

سارہ حسن کہتی ہیں کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو خواتین کارکن کی طرح سیاسی جماعتوں میں کام کرتی ہیں ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہو گا اور ان خواتین کے بارے میں کیا کچھ کہا جاتا ہو گا؟

جبران ناصر کہتے ہیں کہ خواجہ آصف کی ٹوئٹ کو  عام زبان میں جگت بازی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں شام کے وقت ایسے ٹی وی شوز آتے ہیں جن میں خواتین کے لیے ایسی ہی باتیں کی جاتی ہیں اور لوگ ہنستے ہیں لیکن ایک وفاقی وزیر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بھی وہی کرے جو عام طور پر معاشرہ قبول کر رہا ہے۔

فرزانہ باری نے اس معاملے پر مریم نواز شریف کو بھی قصور وار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا،’’وزیر اعظم کی بیٹی کو وزیر دفاع کی ٹوئٹ پر اعتراض کرنا چاہیے تھا۔ یہ اچھی روایت نہیں ہے۔ آج پی ٹی آئی کی خواتین رہنماؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل ایسے الفاظ پی ایم ایل نون کی خواتین کے لیے بھی کہے جا سکتے ہیں۔‘‘