1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وزیر اعظم گیلانی کی دورہء فرانس کے لیے روانگی

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی آج منگل کو فرانس کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے۔ اس دورے کا مقصد اسلام آباد اور پیرس کے باہمی سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

default

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

پاکستانی سربراہ حکومت ایک ایسے وقت پر فرانس کے دورے پر گئے ہیں، جب پاکستان میں امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سیاسی اور سفارتی سطح پر بہت زیادہ ہلچل پائی جاتی ہے۔

یوسف رضا گیلانی نے کل پیر کو فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق اس لیے فرانس جائیں گے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی اور سفارتی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے پس منظر میں یوسف رضا گیلانی نے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے پہلے سے طے شدہ دورہء پیرس کے پروگرام میں کوئی تبدیلی کرنے کے بجائے اس پر اس لیے عمل کرنا چاہیں گے کہ وہ اس دورے کے دوران فرانس اور یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی کوشش بھی کریں گے۔

NO FLASH Onlinseiten zum Tod von Osama bin Laden

پاکستان میں بن لادن کی ہلاکت کے باوجود گیلانی نے اپنا دورہء فرانس ملتوی نہیں کیا

اس بارے میں پاکستانی وزیر اعظم نے کہا، ’فرانس نہ صرف یورپی یونین بلکہ ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کے گروپ جی ایٹ کا بھی ایک انتہائی اہم رکن ہے۔ ہم پیرس کے ساتھ اپنے تعلقات کو وزراء کی سطح کی ملاقاتوں تک بڑھانا چاہتے ہیں‘۔

پاکستانی وزیر اعظم کے اس دورے کے دوران چند انتہائی اعلیٰ کاروباری شخصیات بھی ان کے ہمراہ ہوں گی اور اس دوران فرانس کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں اضافے کے لیے ایک نئے معاہدے پر دستخط بھی کیے جائیں گے۔

اب تک پاکستان اور فرانس کے درمیان دوطرفہ اعلیٰ سطحی رابطے خارجہ سیکریٹریوں کی سطح تک کے ہوتے تھے جنہیں بڑھا کر اب وزرائے خارجہ کی سطح کے مذاکرات میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ پاکستانی وزیر اعظم نے تاہم اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ اس دورے کے دوران اسلام آباد کے پیرس کے ساتھ طے پانے والے باہمی معاہدے کی نوعیت کیا ہو گی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM