1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

وزیر اعظم گیلانی، ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک اور پاکستان مسلم لیگ (ق)

چوہدری شجاعت حسین کی جماعت کا موقف ہے کہ وہ پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ چوہدی شجاعت حسین کا بیان نئی صورت حال بدل سکتا ہے۔

default

یوسف رضا گیلانی پارلیمنٹ میں

شجاعت حسین کے مطابق ان کی جماعت چاہتی ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت عوام کو درپیش مسائل کے حل پر توجہ دے اور اپنے طرز حکمرانی میں بہتری لائے۔ ان کے اس بیان سے قبل پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی متوقع تحریک کا راستہ روکنے کے لئے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور مسلم لیگ ق کے صدر شجاعت حسین سے اہم ملاقاتیں کی تھیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم گیلانی نے مسلم لیگ ن اور ق کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں جاری سیاسی بحران سے نمٹنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ وزیر اعظم گیلانی نے پہلے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کی اور اس کے بعد وہ چوہدری شجاعت حسین کے گھر جاکر ان سے ملے۔ دونوں رہنماؤں سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم گیلانی نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت قائم رہے گی۔

حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کرنے والے مولانا فضل الرحمان نے

Ch. Shujaat Hussain - Ministerpräsident Pakistan

چوہدری شجاعت حسین: فائل فوٹو

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پیپلز پارٹی سے نئے وزیراعظم کی نامزدگی کا مطالبہ کیا تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے پارلیمان میں حکمران اتحاد سے علیحدگی کے اعلان کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومت کے خلاف ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک کی حوصلہ شکنی کے لیے حزبِ مخالف کی بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کر رکھے ہیں۔

پٹرولیم اور تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر احتجاج کرتے ہوئے اتوار کی شب ایم کیو ایم نے حکومت سے الگ ہو کر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کا اعلان کردیا تھا، جس نے برسراقتدار اتحاد کو قومی اسمبلی میں 25 ارکان کی حمایت سے محروم کرکے ایک اقلیتی حکومت میں تبدیل کردیا ہے۔ تاہم وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم صوبہ سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے حالیہ تنقیدی بیان پر نالاں تھی اور اس ہی کی وجہ سے جماعت نے حکمران اتحاد سے علیحدگی اختیار کی ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس