1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’وزیر اعظم عوامی ہوتے تو عوام کے کہنے پر مستعفی ہو جاتے‘

پاناما پیپرز میں وزیر اعظم نواز شریف کے اہل خانہ کا نام آنے کے بعد عمران خان اور نواز شریف کی جانب سے جلسوں اور تقریروں کا سلسلہ شروع ہے اور سوشل میڈیا پر بھی دونوں سیاسی جماعتوں کے حامیوں میں بحث زور و شور سے جاری ہے۔

گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے بیسویں یوم تاسیس کے موقع پر عمران خان نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو آڑے ہاتھوں لیا۔ گزشتہ سارا دن اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں منعقد ہونے والا یہ جلسہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا تھا۔

نواز شریف پہلے تو ٹی وی پر قوم سے خطاب کر رہے تھے لیکن آج انہوں نے بھی کوٹلی ستیاں کے مقام پر ایک جلسے سے خطاب کیا جس کے بعد ٹوئٹر پر ’عوامی وزیر اعظم عوام کے ساتھ‘ ٹرینڈ کرنا شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ 'کرپشن کے خلاف ضرب عضب‘ کا ٹرینڈ بھی نمایاں رہا۔

ہیش ٹیگ چاہے جو بھی ہو، سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے والوں میں وزیر اعظم کی حمایت اور مخالفت کرنے والے پیش پیش رہے۔

’عوامی وزیر اعظم عوام کے ساتھ‘ ہیش ٹیگ پر اظہار رائے کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ اگر نواز شریف عوامی وزیر اعظم ہوتے تو وہ عوام کے کہنے پر مستعفی ہو جاتے۔

اسی طرح راشد علوی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اگر عوامی ہوتے تو وہ یورپ کے بجائے پاکستان میں سرمایہ کاری کرتے۔

دوسری جانب اکبر علی بزمی نامی ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ مشرق ہو یا مغرب، نواز شریف سب سے اچھے ہیں اور پوری قوم اس بات سے اتفاق کرتی ہے۔

عامر سعید نامی ایک صارف کا کہنا تھا، ’’تیس سال سے احتساب کے نام پر نواز شریف خاندان کی ہر ممکن چھان بین کے باوجود کرپشن کا ایک بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔‘‘

مقامی میڈیا کے ایک ہینڈل سے آج کے جلسے کے دوران نواز شریف کا ایک بیان ٹویٹ کیا گیا جس کے مندرجات یوں تھے، ’’ کوئی سڑک ،ایکسپریس وے یا موٹر وے بنانی ہوتو بتائیں۔‘‘

اس کے جواب میں سلمان اکبر نے لکھا، ’’میاں صاحب سب چھوڑیں، ایک ایسا سرکاری ہسپتال بنا لیں، جہاں آپ کا اور آپ کے خاندان کا علاج ہو سکے۔‘‘

میاں قیصر نامی ایک صارف نے حزب اختلاف کی سبھی جماعتوں کی جانب سے تحقیقاتی کمیشن مسترد کیے جانے پر رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، ’’آج جب سب کی کرپشن پہ کمیشن بٹھانے کی بات ہوئی ہے تو آپس میں مک مکا کرتے پھر رہے ہیں۔‘‘

سوشل میڈیا پر ایسی خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ فوجی سربراہ راحیل شریف بھی جلد ہی اپنے اثاثوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں گے۔ اس بارے ملک شکیل نامی ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ تحقیقاتی کمیشن کے خوف سے آرمی چیف بھی اپنے اثاثے ظاہر کریں گے ورنہ اس سے پہلے فوجی جنرل کے اثاثوں کی بات کرنا بھی جرم تھی۔